۱۔میرا سوال یہ ہے کہ سعودیہ میں نمازِ تراویح ادا کرتے وقت امام قرآن پاک کو دیکھ کر تلاوت کرتے ہیں ، یہ صحیح ہے یا غلط ؟
۲۔ امام عشاء کی نماز پڑھاتا ہے اور مقتدی اس کے پیچھے مغرب کی نیت کرتا ہے ، تیسری رکعت میں وہ بیٹھ کر امام کا انتظار کرتا ہے، جب وہ چوتھی رکعت کو پورا کر کے سلام پھیرتا ہے تو اس کے ساتھ سلام پھیرتا ہے ،یہ صحیح ہے یا غلط ؟
عند الاحناف یہ امور درست نہیں، اس لۓ حنفی المسلک لوگوں کو اس قسم کے ائمہ کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے ۔
في الدر المختار : (و) يفسدها (إلى قوله) أى ما فيه قرآن (مطلقا) الخ و في حاشية ابن عابدين تحت (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا ، إماما أو منفردا ، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا اھ (1/ 624)۔
و في الدر المختار : (و لا يصح اقتداء رجل بامرأة) (إلی قوله) (و) لا (مفترض بمتنفل و بمفترض فرضا آخر) لأن اتحاد الصلاتين شرط عندنا اھ (1/ 579)۔