میرے ایک دوست کو مسئلہ پیش آیا ہے ایک تو وہ نابینا ہے، دوسرا اس کو ہوا خارج ہونے کی بیماری ہے ہر پانچ منٹ کے بعد اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس کو معلوم یہ کرنا ہے کہ وہ نماز کیلیے وضو کس طرح کرے؟ کیا وہ معذور شمار ہوگا؟ برائے مہربانی مسئلہ کا صحیح حل بتادیں۔
جو صورت سائل نے بیان کی ہے اگر اس کے دوست کو اس بیماری کے دوران کسی بھی نماز کے پورے وقت میں عذر کے تسلسل کی وجہ سے اتنا وقت بھی نہ ملے جس میں وہ کامل طہارت کے ساتھ وقتیہ فرض نماز ادا کرسکے تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں داخل ہوجائے گا، اور تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ مثلاً ادائیگی ظہر کیلیے پہلی مرتبہ وہ ظہر کے شروع وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے اگر اسے اس دوران اتنا وقت نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نماز ظہر ادا کرسکے تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرضِ ظہر ادا کرلے اس کے بعد نمازِ عصر کی ادائیگی کیلیے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نماز عصر باجماعت ادا کرے اس دوران اگر ہوا خارج ہو بھی جاتی ہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب و عشاء میں ایسا ہی کرے کہ ہر نماز کیلیے الگ الگ وضو کرلیا کرے، اس پورے وقت میں اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگر اس دوران پورا وقت نماز کا کوئی ایسا گزر جائے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہوا ہو تو شرعاً وہ معذور نہ رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے مطابق عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ففی الدر المختار:(وصاحب عذرمن به سلس)بول لا يمكنه إمساكه( أو استطلاق بطن أو انفلات ريح أو استحاضة) أو بعينه رمد أو عمش أو غرب وكذا كل ما يخرج بوجع ولو من أذن وثدي وسرة ( إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة) بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث(ولو حكما)لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم(وهذا شرط)العذر( في حق الابتداء وفي) حق(البقاء كفي وجوده في جزء من الوقت)ولو مرة ( وفي )حق الزوال يشترط(استيعاب الانقطاع ) تمام الوقت(حقيقة) لأنه الانقطاع الكامل اھ(1/ 305)
وفيها ايضا: (وحكمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لكل فرض) اللام للوقت كما في -{لدلوك الشمس}[الإسراء: 78]- (ثم يصلي) به (فيه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولى (فإذا خرج الوقت بطل) أي: ظهر حدثه السابق، حتى لو توضأ على الانقطاع ودام إلى خروجه لم يبطل بالخروج ما لم يطرأ حدث آخر أو يسيل كمسألة مسح خفه (الي قوله) (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى اھ(1/ 306)