میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی علاقہ میں کوئی حافظ نہ ہو تو پھر رمضان کی تراویح ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ کیا کوئی اچھا قاری جس کو قرآن کا کافی حصہ یاد بھی ہو، قرآن کھول کر اس کو پڑھ کر تراویح پڑھا سکتے ہیں؟
دورانِ نماز قرآنِ قریم کھول کر دیکھنا پھر اُس میں پڑھنا اور رکعت کے بعد اُسے بند کر کے الگ رکھ دینا ایسے امور ہیں، جو عند الاحناف عملِ کثیر کہلاتے ہیں، اس لیے اس طرح نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اگر کسی علاقہ میں کوئی بھی حافظ قرآن موجود نہ ہو اور باہر کسی دوسرے علاقہ سے بھی نہ منگوا سکتے ہوں تو اس صورت میں جس شخص کو چھوٹی سورتیں یاد ہوں وہی نمازِ تراویح بھی پڑھا دیا کرے، وہ بلاشبہ ادا ہو جائےگی۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0