کیا حافظہ عورت اپنے گھر کی عورتوں یا محلے کی تمام عورتوں کو رمضان المبارک میں فرض نماز باجماعت اور تراویح پڑھا سکتی ہے یا نہیں؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ کی پوری وضاحت مطلوب ہے۔
عورتوں کا تنہا جماعت کرانا چاہے فرائض میں ہو یا تراویح میں ناپسندیدہ اور مکروہ ہے، تاہم اگر کوئی خاتون حافظہ ہو اور حفظ کو محفوظ رکھنے کی غرض سے وہ صرف اپنے گھر کی عورتوں کو تراویح پڑھا دے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے، اگرچہ احتراز اس سے بھی بہتر ہے۔
فی الفتاوى الهندية : و يكره إمامة المرأة للنساء في الصلوات كلها من الفرائض و النوافل إلا في صلاة الجنازة. هكذا في النهاية اھ(1/ 85)۔
و في تحفة النبلاء في جماعة النساء : و أخرجَ مُحَمَّدُ بنُ الحَسَنِ في كتاب ((الآثار)): أَخْبرنا أَبو حَنِيْفَةَ نا حَمَّاد عن إِبراهيم عن عائشةَ رَضِي الله عَنْهُ : أنَّها كانت تَؤُمُ النِّساءَ في شهرِ رمضانَ ، فتقومُ وَسْطَهُنَّ، قال مُحَمَّدُ : لا يعجبنا أن تَؤُمَ المرأةُ ، فإن فعلتْ قامتْ في وَسْطِ الصَّفِ مع النِّساءِ كما فعلتْ عائشةَ ، و هو قولُ أبي حنيفةَ. انتهي (ص: 15)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0