کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں ۲۳ رمضان المبارک کو تراویح کے بعد سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم پڑھی جاتی ہیں، پھر ان سورتوں کے پڑھنے کے بعد لوگ جو مٹھائی یا شکر اور گڑ لیکر آئے ہوئےہوتے ہیں اس سے تھوڑا تھوڑا الگ کر دیتے ہیں امام صاحب کےلیے اور تھوڑا بہت ھدیہ بھی دیتے ہیں اور اس دن اس میں ایسے حضرات بھی شرکت کر لیتے ہیں جو کہ اور دنوں میں نماز میں نہیں آتے، اب مطلوب یہ ہے کہ اس کا قرآن و حدیث سے کوئی اثبات ہے یا نہیں اور شرعاً مذکور ہ طریقہ کیسا ہے؟
سورۂ عنکبوت اور سورۂ روم کا پڑھنا قرآن کا حصہ ہونے کی وجہ سے اگر چہ باعث اَجر و ثواب ہے، مگر اس کے لیے مذکور قیودات و تخصیصات کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر یعنی دورِ صحابہ و تابعین اور تبعِ تابعین رحمہم اللہ تعالیٰ سے کوئی ثبوت نہیں ، اس لیے مذکور طریقہ کار کو لازم سجمھ کر اختیار کر نے سے احتراز لازم ہے۔
ففی مرقاة المفاتيح: قال الطيبي: و فيه أن من أصر على أمر مندوب، و جعله عزما، و لم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال اھ (2/ 755)۔
و فی مجموعة مسائل اللکھنوی: فکم من مباح یصیر بالا لتزام من غیر لزوم و التخصیص من غیر مخصص (الی قوله) مکروھاً کماصرح به علی القاری فی شرح المشکوة، و الحصفکی فی الدر المختار اھ(ج3ص490)۔
و فی مجموعة قواعدالفقه: ھی الامر المحدث الذی لم یکن علیه الصحابة و التابعیون و لم یکن مما اقتضاہ الدلیل الشرعی اھ(ص204)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0