کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ رمضان المبارک میں حافظ جب تراویح پڑھاتا ہے تو جلدی جلدی قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ جس پر کچھ مقتدی کہتے ہیں کہ سال کے بعد ماہِ رمضان آتا ہے ہم قرآن پاک کو ٹھہر ٹھہر کر اچھی آواز میں سننا چاہتے ہیں، جبکہ دو چار نوجوان مقتدی یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ بوڑھے لوگوں کی وجہ سے تراویح جلدی ختم ہو، اس پر ہر رمضان المبارک میں مقتدیوں کی آپس میں بحث ہوتی رہتی ہے، لہٰذا قرآن وحدیث اور ائمہ کرام کے اقوال کے مطابق فتویٰ درکار ہے، اللہ پاک آپ کی اور میری راہ نمائی فرمائے۔ جزاک اللہ!
قرآن مجید کا ادب یہ ہے کہ اس کو سکون واطمینان سے پڑھا جائے، اور سامعین اس کو خوب شوق سے سنیں، مگر رمضان المبارک میں دیگر امور کی بھی انجام دہی کرنی پڑتی ہے اور سحری کے لیے اُٹھنا بھی ہوتا ہے، نیز جماعت میں ضعفاء اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، اس لیے حافظ قرآن کو چاہیے کہ وہ تمام مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے ’’تراویح‘‘ میں تلاوت کرے اور رفتار بھی نسبتاً تیز رکھے، تاکہ لوگ اُکتا نہ جائیں۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن جندب بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «اقرؤوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم فإذا اختلفتم فقوموا عنه» (متفق عليه) اھ (1/ 672)
وفی الدر المختار: (ولا يترك) الختم (لكسل القوم) لكن في الاختيار: الأفضل في زماننا قدر ما لا يثقل عليهم، وأقره المصنف وغيره. وفي المجتبى عن الإمام: لو قرأ ثلاثا قصارا أو آية طويلة في الفرض فقد أحسن ولم يسئ، فما ظنك بالتراويح؟ وفي فضائل رمضان للزاهدي: أفتى أبو الفضل الكرماني والوبري أنه إذا قرأ في التراويح الفاتحة وآية أو آيتين لا يكره، ومن لم يكن عالما بأهل زمانه فهو جاهل اھ (2/ 47)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0