محترم مفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی
بابت: مصلی پر تراویح میں امامت کا حکم:
السلام علیکم!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک حافظِ قرآن ۱۲ سال سے ایک مصلی پر قرآن کریم تراویح میں ختم کر رہا ہےاُس کی آواز میں خوش الحانی بھی ہے، جبکہ پنج وقتہ نمازی اور باشرع ہے ، باشرع سے مراد یہ ہے کہ ہمیشہ کے لیے ایک مشت سے زیادہ کی داڑھی رکھی ہوئی ہے ، ایسا نہیں کہ رمضان کے اندر رکھی اور کٹوا دی، تراویح ۲۹ روز میں ختم کی جاتی ہے، ایک پارہ روز پڑھا جاتا ہے اور ایک گھنٹے میں وہ بھی ختم کر دیا جاتا ہے ، اس سب کے باوجود مسجد انتظامیہ مصلی پر تبدیلی چاہتی ہے کیا ایسا کرنا جائز ہے؟قرآن وسنت کی روشنی میں فتویٰ صادر فرما دیجیے۔
مسجد انتظامیہ اگرچہ اپنی صوابدید پر تراویح کے لیے کسی بھی حافظ و قاری کو مقرر کر سکتی ہے، اور اس میں شرعاً بھی کوئی حرج نہیں ، تاہم اگر سابق حافظ تراویح پڑھانا چاہتا ہو اور لوگ بھی اس پر راضی ہوں تو اس کو دوبارہ موقع دینے میں لوگوں کی رعایت بھی ہے اور انتشار سے لوگوں کا بچانا بھی ، جو زیادہ بہتر اور اولیٰ ہے۔
ففی الفتاوى الهندية: رجل بنى مسجدا وجعله لله تعالى فهو أحق الناس بمرمته وعمارته وبسط البواري والحصر والقناديل، والأذان والإقامة والإمامة إن كان أهلا لذلك فإن لم يكن فالرأي في ذلك إليه. كذا في فتاوى قاضي خان. (1/ 110)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0