۱۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ امامِ تراویح دوسری رکعت میں قعدہ میں بیٹھنے کے بجائے تیسری رکعت کےلیے بالکل قیام کے قریب جا پہنچے تھے، گُھٹنا سیدھا کر لیا تھا، مقتدیوں کے لقمے پر واپس لوٹے اور تشہد کے بعد سلام پھیر دیا ، البتہ سجدہ سہو نہیں کیا اور نہ ہی پڑھی ہوئی مقدار کو دوسری رکعت میں دہرایا، کیا ایسی صورت میں نماز درست ہوگئی؟براہِ کرم جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
۲۔ تراویح میں امام کا اس تیزی سے قرآن پڑھنا کہ صرف علامت وقفِ کے الفاظ کے علاوہ باقی کچھ پیچھے والے حفّاظ کو بھی سمجھ نہیں آ،تا کیساہے؟ کیا اس طرح قرآن کریم پڑھنا درست ہے یا ایسی تراویح پڑھنے سے نہ پڑھنا ہی بہتر ہے؟ براہِ کرم جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
۱۔ مذکور امام صاحب موصوف ،تراویح کی دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بجائے اگر واقعۃً اس قدر اُٹھے تھے کہ قیام کے قریب تھے اور پھر مقتدیوں کے لقمہ دینے سے واپس بیٹھ گئے تو ایسی صورت میں ان کے ذمہ سجدہ سہو لازم تھا، لیکن اگر انہوں نے سجدہ سہو کیے بغیر نماز ختم کردی تھی، تو اس رات ان دو رکعتوں کا باجماعت اعادہ لازم تھا، اسی طرح ان دو رکعتوں میں جو قرآن پڑھا گیا تھا اس کو بھی تراویح میں دوبارہ پڑھنا چاہیے تھا، لیکن اگر امام صاحب نےایسا نہ کیا ہو، تو ختم قرآن نا مکمل ہوگا۔
۲۔ تراویح میں قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا چاہیے،قرآن مجید کو اس قدر تیزی سے پڑھنا کہ حروف کی ادائیگی اپنے مخارج سے صحیح طرح نہ ہو، قرآن مجید کے آداب کے خلاف ہے،اس لیے امام صاحب موصوف کو ،آئندہ کیلیے اس طرح قرآن مجید پڑھنے کے بجائے ٹھہر ٹھہر کر قرآن مجید پڑھنا چاہیے۔
و فی حاشية" الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح : وإن سها عن القعود الأخير عاد ما لم يسجد" لعدم استحكام خروجه من الفرض(الی قوله) وبه وردت السنة عاد رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد قيامه إلى الخامسة وسجد للسهو "وسجد" للسهو "لتأخيره"۔اھ(468)۔
وفی التاتارخانية :وحکم السھو فی صلاة الفرض والنفل سواء۔اھ (1/517)۔
وفي الهندية: وإذا غلط في القراءة في التراويح فترك سورة أو آية وقرأ ما بعدها فالمستحب له أن يقرأ المتروكة ثم المقروءة ليكون على الترتيب، كذا في فتاوى قاضي خان. اھ(1/118)
قال اللہ تبارك و تعالی فی القرآن:ورتل القرآن ترتیلا اھ(المزمل:4)
و فی تفسير روح المعانی للعلامة الألوسي: وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ أي في أثناء ما ذكر من القيام أي اقرأه على تؤدة وتمهل وتبيين حروف تَرْتِيلًا بليغا بحيث يتمكن السامع من عدها اھ(15/116)
وفی الدر المختار: يقرأ في الفرض بالترسل حرفا حرفا، وفي التراويح بين بين، وفي النفل ليلا له أن يسرع بعد أن يقرأ كما يفهم اھ
وفی رد المحتار: (قوله كما يفهم) أي بعد أن يمد أقل مد قال به القراء وإلا حرم لترك الترتيل المأمور به شرعا ۔اھ (1/ 541)۔ واللہ اعلم بالصواب
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0