السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ!
حضرت میرا سوال یہ ہے کہ کیا پانچ روزہ یا دس روزہ ترویح پڑھنا ٹھیک ہے؟ کیا اس کا وہی ثواب ہے جو ستائیس روزہ یا انتیس روزہ کو ختم کرنے کا ہے؟ کیا سرور عالم ﷺ نے کبھی پانچ یا دس روزه ترویح پڑھی ہے؟ کیا یہ بدعت نہیں؟ تفصیل سے بنائیں۔ جزاک اللہ!
پانچ یا دس روزہ تراویح کا پڑھنا جائز اور درست ہے، یہ عمل خود آنحضرت ﷺسے تو ثابت نہیں، مگر مختلف صحابہ کرامؓ سے پانچ یا دس روز میں قرآن پاک ختم کرنا ثابت ہے، اس بناء پر اس کو بدعت کہنا غلط ہے، البتہ پانچ یا دس روز میں ختم قرآن کریم کے بعد بھی تراویح روزانہ بیس رکعات پڑھنا سنت ہے، صرف قرآن ختم کرنے کی سنت پوری ہو چکی ہے، اس لیے ختم قرآن کے بعد بھی بقیہ ایّام رمضان میں تراویح کا اہتمام لازم ہے، جبکہ دونوں صورتیں ثواب سے خالی نہیں۔
وفي الفتاوى الهندية: ويكره الإسراع في القراءة وفي أداء الأركان، كذا في السراجية وكلما رتل فهو حسن، كذا في فتاوى قاضي خان والأفضل في زماننا أن يقرأ بما لا يؤدي إلى تنفير القوم عن الجماعة لكسلهم؛ لأن تكثير الجمع أفضل من تطويل القراءة، كذا في محيط السرخسي. والمتأخرون كانوا يفتون في زماننا بثلاث آيات قصار أو آية طويلة (إلی قوله) لو حصل الختم ليلة التاسع عشر أو الحادي والعشرين لا تترك التراويح في بقية الشهر؛ لأنها سنة، كذا في الجوهرة النيرة الأصح أنه يكره له الترك، كذا في السراج الوهاج.اھ (1/ 118)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0