کیافرماتے ہیں علماءِ کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ میں جہاں پر ہم ہیں وہاں پر چاروں طرف اللہ کے فضل سے مساجد بہت ہیں، مگر ہم ان مساجد کے درمیان میں ہیں ،فاصلہ پر، جہاں پر چار مساجد دیوبندیوں کی، تین مساجد اہلِ حدیث کی اور پانچ مساجد بریلویوں کی ہیں ، اور ہم ان کے در میان بچوں کو تعلیمِ قرآن ، حفظِ قرآن اور قاعد ہ پڑھاتے ہیں اور جب نماز کا وقت ہو تا ہے تو ہم اذان دے کر اسی جگہ پر باجماعت نماز ادا کرتے ہیں ، اللہ کے فضل سے طلباء کے علاوہ کچھ بوڑھے لوگ بھی آکر ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ رمضان شریف کی آمد آمد ہے، طلباء اصرار کر رہے ہیں کہ جو حافظِ قرآن ہیں اور حفظ کر رہے ہیں کہ ہم تراویح بھی یہیں پڑھیں گے، کیا ہم نماز باجماعت پڑھانے کے ساتھ ساتھ اس جگہ پر نماز اور تراویح پڑھا سکتے ہیں کہ نہیں ؟ برائے مہربانی ہمیں آگاہ کیجیے اور ہماری راہ نمائی فرمائیں، اور ہم خود دیو بندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں ۔
جی ہاں ! مذکور مدرسہ میں بھی تراویح کی جماعت کروانا بلاشبہ جائز اور درست ہے ، اگرچہ اس سے مسجد کا ثواب حاصل نہ ہو گا ۔
ففي حاشية ابن عابدين: (قوله والجماعة فيها سنة على الكفاية إلخ) أفاد أن أصل التراويح سنة عين، فلو تركها واحد كره، بخلاف صلاتها بالجماعة فإنها سنة كفاية، فلو تركها الكل أساءوا؛ أما لو تخلف عنها رجل من أفراد الناس وصلى في بيته فقد ترك الفضيلة، وإن صلى أحد في البيت بالجماعة لم ينالوا فضل جماعة المسجد وهكذا في المكتوبات كما في المنية وهل المراد أنها سنة كفاية لأهل كل مسجد من البلدة أو مسجد واحد منها أو من المحلة؟ ظاهر كلام الشارح الأول. واستظهر ط الثاني. ويظهر لي الثالث، لقول المنية: حتى لو ترك أهل محلة كلهم الجماعة فقد تركوا السنة وأساءوا. اهـ. وظاهر كلامهم هنا أن المسنون كفاية إقامتها بالجماعة في المسجد، حتى لو أقاموها جماعة في بيوتهم ولم تقم في المسجد أثم الكل، وما قدمناه عن المنية فهو في حق البعض المتخلف عنها. وقيل إن الجماعة فيها سنة عين فمن صلاها وحده أساء وإن صليت في المساجد وبه كان يفتي ظهير الدين. وقيل تستحب في البيت إلا لفقيه عظيم يقتدى به، فيكون في حضوره ترغيب غيره. والصحيح قول الجمهور إنها سنة كفاية، وتمامه في البحر (2 / 45 )۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0