کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے محلہ میں ایک مسجد ہے، جس میں جمعہ کے علاوہ باقی نمازیں جماعت کے ساتھ ہوتی ہے، اور رمضان میں عشاء کی نماز اور تراویح بھی نہیں ہوتی، تو اس محلہ کے لوگ تراویح کے لیے دوسری جگہ جامع مسجد جاتے ہیں، اس کی وجہ سے رمضان میں محلہ کی مسجد میں عشاء کی نماز ادا نہیں ہوتی، اس حوالے شرعی حکم کیا ہے؟اور اس جامع مسجد کے نمازی بہت کم ہے، اگر یہ لوگ وہاں نہیں جائیں گے تو وہاں کی جماعت پر اچھا خاصہ اثر پڑےگا، تو کیا ایسی کوئی شرعی اجازت ہے کہ ایک مسجد کی آبادی کے لیے سفر کرے اور دوسری مسجد ویران کرے؟ اور وہ جامع مسجد بریلویوں کی ہے، اور اس محلے کے لوگ متوسط ذہن کے ہیں، تو اگر میں رمضان میں تراویح پڑھانے کے لیے کوئی دیوبندی قاری کو مقرر کروں تو اُن لوگوں پر کا م بھی کیا جا سکتا ہے؟
واضح ہو کہ محلہ کی مسجد کو آباد کرنا اہلِ محلہ کی ذمہ داری ہے اور اسی وجہ سے اہلِ محلہ کے لیے اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا افضل ہے، لہٰذا سوال میں مذکور اہلِ محلہ پر لازم ہے کہ دیگر نمازوں کی طرح رمضان میں عشاء کی نماز اور تراویح بھی اپنی مسجد میں ادا کرنے کا اہتمام کریں تاکہ دوسری مسجد میں نمازیوں کی تعداد بڑھانے کے سبب اپنے محلے کی مسجد میں عشاء کی نماز اور تراویح کو ترک کرنا لازم نہ آئے۔
کما في خلاصة الفتاویٰ: رجل يصلي في الجامع لكثرة الجمع ولايصلي في مسجد حيه فإنه يصلي في مسجد منزله و إن كان قومه أقل، وإن لم يكن لمسجد منزله مؤذن فإنه يؤذن ويصلي ... فالأفضل أن يصلي في مسجده ولا يذهب إلي مسجد آخر. (ج: 1، ص:228، ط: المکتبة الرشیدیة)
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0