کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے ( ایبٹ آباد) میں مختلف مساجد میں ختمِ قرآن کی تقریبات اس انداز میں ہوتی ہیں کہ جس مسجد میں مثلاً ۲۱ رمضان المبارک کو ختمِ قرآن ہو تو اس مسجد والے دو ، تین دن قبل مسجد میں اعلان کرتے ہیں کہ ختمِ قرآن کےموقع پر دیگر مساجد سے آنے والے لوگوں کے لیے دعوت کا اہتمام کیاجائےگا جو حضرات اس میں حصہ ملانا چاہتے ہیں وہ فلاں شخص کے پاس رقم جمع کرا سکتے ہیں اس طرح ختمِ قرآن کے موقع پر دعوت کرتے ہیں اور دیگر مساجد والےبھی اسی اہتمام سے دعوت کا پروگرام کرتے ہیں، جبکہ چندہ لینے میں کسی پر زبردستی نہیں ہوتی، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طریقہ سے اہتمام کرنا جائز ہےیا نہیں؟
اس لینے اور دینے کو اگر ختمِ قرآن کا لازمی حصہ نہ سمجھا جاتا ہو، بلکہ ختمِ قرآن کی دعا میں شمولیت اور برکت حاصل کرنے کے لیے آنے والے مہمان کے اکرام کے لیے ایسا کیا جاتا ہو تو یہ بلاشبہ باعثِ اجر و ثواب ہے، اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
ففی الدر المختار: (و لو) ذبح (للضيف) (لا) يحرم لأنه سنة الخليل و إكرام الضيف إكرام الله تعالى. و الفارق أنه إن قدمها ليأكل منها كان الذبح لله و المنفعة للضيف أو للوليمة اھ(6/ 309)۔
ففی مجموعة مسائل اللکھنوی: فکم من مباح یصیر بالا لتزام من غیر لزوم و التخصیص من غیر مخصص (الی قوله) مکروھاً کماصرح به علی القاری فی شرح المشکوة، و الحصكفی فی الدر المختاراھ(3/490)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0