کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا ذہن بھی کمزور ہو گیا ہے ، تو نماز کے دوران بھی وہ بھول جاتا ہے ، جب اس سے کہتے ہیں کہ آپ نے سجدہ نہیں کیا یا رکعت کم زیادہ کی ، تو کہتا ہے کہ میں نے کچھ نہیں چھوڑا ، میں نے نماز پوری پڑھی ہے، تو کیا اسے کوئی شخص لقمہ دے کہ "سجدہ کر لو "وغیرہ یا اسے چھوڑ دیا جائے جیسے پڑھتا ہے، پڑھے؟
ایسے معذور شخص کو اگر دوسرا کوئی شخص لقمہ دے کر نماز پڑھائے ،تو شرعاً اس کی نماز درست ادا ہو جائےگی۔
فی الدر المختار : (و لو اشتبه على مريض أعداد الركعات و السجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء) و لو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزيه كذا في القنية اھ الخ و فی حاشية ابن عابدين تحت (قوله و لو اشتبه على مريض إلخ) أي بأن وصل إلى حال لا يمكنه ضبط ذلك (إلی قوله) قلت : و قد يقال إنه ليس بتعليم و تعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام فتأمل. اھ (2/ 100)۔