مفتی صاحب ! نماز اور قرآن پاک کی تلاوت کے دوران ٹوپی پہننے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور اگر نہ پہنی ہو تو اس کی نماز اور تلاوت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
سر ڈھانپنا نماز کی حالت میں مسنون ہے، اس لیے بلا وجہ یا لا پرواہی کی وجہ سے ننگے سر نماز پڑھنا خلافِ سنت ہے، جبکہ تلاوت کرتے وقت سر ڈھانکنا آداب تلاوت میں سے ہے اور ایسا نہ کرنا خلاف ادب ہے ۔
ففي الفقه الإسلامي وأدلته: والصلاة حاسراً (كاشفاً) رأسه، للتكاسل، ولا بأس به بقصد التذلل، لأن مبنى الصلاة على الخشوع. والكراهة هنا تنزيهية اتفاقاً اھ (2/ 972)