احکام نماز

گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت کب ہوگی ؟

فتوی نمبر :
23726
| تاریخ :
2014-10-24
عبادات / نماز / احکام نماز

گھر میں نماز پڑھنے کی رخصت کب ہوگی ؟

حضرت میں اٹلی میں رہتا ہوں، اٹلی کے جس شہر میں رہتا ہوں، وہاں ایک ہی مسجد ہے، جو میرے گھر سے ۲ کلومیٹر پر ہے، ہم مسجد میں روزانہ تعلیم کرتے ہیں ،تعلیم میں ہم نے یہ حدیث پڑھی ہے کہ ،حضور پاک ﷺنے فرمایا کہ جو لوگ گھر میں نماز پڑھتے ہیں، میرا دل کرتا ہے کہ کچھ نوجوانوں سے کہوں کہ لکڑیاں جمع کریں، اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں، اس حدیث کو سننے کے بعد بڑی پریشانی ہوتی ہے، جب بھی گھر میں نماز پڑھنے لگوں، اور کئی دوست پانچ کلومیٹر سے بھی آتے ہیں، میرے ایک دوست جو گھر میں ہی نماز پڑھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ گھر میں نماز پڑھی جا سکتی ہے، اگر مسجد سے دور ہو ،اور گھر میں اذان کی آواز نہ پہنچتی ہو، برائے مہربانی یہ بتائیں کہ، گھر سے مسجد کتنی دور ہو یا کتنے کلو میٹر دور ہو ، تو گھر میں نماز پڑھی جا سکتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

گھر سے مسجد ایک میل کے فاصلہ پر ہو،تو مسجد کی جماعت میں شامل ہونا واجب نہیں، جیسے پانی جب ایک میل کے فاصلہ پر ہو ، تو وضو کے لیے وہاں تک جانا ضروری نہیں، بلکہ تیمم کرنا درست ہے۔ ( ما خود از احسن الفتاوی ج ۳ ص ۲۸۵ بتغیر)، اس لیے سائل کے جو دوست مسجد سے ایک میل یا اس سے زائد فاصلہ پر رہتے ہوں ، تو ان کے لیے گھر میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، اگرچہ سہولت ممکن ہونے کی صورت میں بہتر بہر حال یہ ہے کہ ، مسجد کی جماعت میں شریک ہو جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) اھ (1/ 554)واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الرشید محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23726کی تصدیق کریں
0     1133
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات