اگر امام رکوع یا سجدہ میں دیر کرتا ہو تو کیا مقتدی تین سے زیادہ تسبیحات پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ کیا امام رکوع یا سجدہ میں تین سے زیادہ تسبیحات پڑھ سکتا ہے؟
اگر امام رکوع وسجدہ میں تاخیرکرے تو مقتدی اس دوران تین سے زائد مرتبہ تسبیح پڑھ سکتا ہے اور خود امام صاحب کےلئے بھی ایسا کرنا جائز ہے ۔(لیکن امام کے لیے رکوع وسجدہ بہت ذیادہ طویل کرنا مناسب نہیں)
ففي الشامية: ( و يسبح فيه) وأقله (ثلاثا)، وفيه صرحوا بأنه یكره أن ينقص عن الثلاث وأن الزيادة مستحبة بعد أن يختم على وتر خمس أو سبع أو تسع ما لم يكن إماما فلا يطول الخ (ج1/494)۔