قسطوں پر خرید و فروخت کرنا کیسا ہے ؟ اگر ایک چیز کی قیمت نقد 1500 ہے یا مہینے کی قسطوں پر 1800ہے اور 9 مہینے کی قسطوں پر 2100ہے اور 12 مہینے کی قسطوں پر 2400 ہے، خریدار کا مہینے کی قسطوں کو اختیار کرکے وہ 6 مہینے میں 1800 ادا کریگا اس طرح کا تجارت میں سود آتا ہے یا نہیں ؟
نقد کے مقابلہ میں ادھار یا قسطوں پر کوئی چیز مہنگی خریدنا شرعاً بھی جائز ہے بشرطیکہ کہ شرائطِ ذیل کو ملحوظ رکھ کر معاملہ کیا جائے، اور اس طرح کچھ اضافی رقم لینا سود کے زمرے میں نہیں آتا (1) مجلس عقد میں ہی یہ طے کر لیا جائے کہ معاملہ ادھار اور قسطوں پر ہو گا ۔ (۲) ہر قسط کی مالیت طے کر لی جائے۔ (۳) یہ بھی طے کر لیا جائے کہ کل کتنی اقساط ہونگی۔ (4) کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ وغیرہ بھی مشروط نہ ہو۔
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)
تصاویر والے ڈبوں اور پیکٹوں میں پیک شدہ اشیاء کا کاروبار-نسوار اور سگریٹ کا کاروبار
یونیکوڈ کاروبار 0