مصارف زکوۃ و صدقات

مال زکوٰۃ سے کسی کو حج کروانا

فتوی نمبر :
24758
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مال زکوٰۃ سے کسی کو حج کروانا

میں نے پچھلے سال ایک شخص کو حج ادا کرنے کے لیے پیسے دیے تھے میرا خیال ہے زادِ راہ کے لیے کسی کو زکوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے ۔کیا میرا خیال درست ہے اوریہ کہ اس سے زکواۃ ادا ہو جاتی ہے کہ نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر حج پر جانے والا شخص مستحقِ زکوٰۃ ہو اور سائل نے زکوٰۃ کی نیت سےاس کو ان پیسوں کا مالک بھی بنایا ہو تو زکوٰۃ ادا ہو گئی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الهندية : وأما شرط ادائها فنية مقارنة للاداءاولعزل اھ (1/171)۔
و في الدر المختار : ويشترط أن يكون الصرف تمليكااھ( ج ۲ ص ۳) -
وفی الهندية : ولا يجوز دفع الزكاة الى من يملك نصابا اھ (1/189)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 24758کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات