زکوٰۃ کے مستحق کا اندازہ کیسے لگایا جائے، اگر کسی کے پاس ’’ساٹھ‘‘ لاکھ روپے تک کے دو مکانات ہوں، اور آسائش کا ہر سامان دستیاب ہو، مگر فی الحال اس کے پاس ملازمت نہ ہو یا آمدن کم ہو تو کیا اس کو زکوٰۃ دینا درست ہے؟
واضح ہوکہ زکوٰۃ کا مستحق شرعاً وہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر، نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو، لہٰذا سوال میں مذکور شخص کے پاس اگر دونوں مکانات میں سے ایک رہائش کی ضرورت سے زائد ہو تو اس کیلئے زکوٰۃ لینا جائز نہیں۔
ولا یجوز دفع الزکوٰۃ إلی من یملک نصابا من أی مال کان، ویجوز دفعھا إلی من یملک أقل من ذلک۔ اھـ (ص٩٩) واللہ تعالیٰ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0