کیا زکوۃ کا مال رفاہِ عام جیسے ہسپتال، ڈسپنسری، تعلیم، کھانا کھلانا، اور گلیوں کی تعمیر وغیرہ میں خرچ کرنا جائز ہے؟
زکوٰۃ کے مال کو ایسے امور میں خرچ کرنا جس میں تملیکِ مستحق نہ پائی جاتی ہو، جائز نہیں۔ مذکور امور جن میں تملیک نہیں پائی جاتی، جیسے ہسپتال، ڈسپنسریوں اور گلیوں کی تعمیر میں لگانا ناجائز نہیں، البتہ مستحق طالب علم کو کتابیں خرید کر دی جائیں یا بھوکے کو کھانے کے لیے رقم دی جائے یا کھانا خرید کر مالکانہ طور پر دیدیا جائے تو شرعاً اس سے زکوٰۃ ادا ہو جائےگی۔
ففی الفتاوى الهندية: ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه اھ(1/ 188)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: يشترط التمليك لصحة أداء الزكاة (1) بأن تعطى للمستحقين، فلا يكفي فيها الإباحة أو الإطعام إلا بطريق التمليك اھ(3/ 1812)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0