میرا ایک جاننے والا ہے، جس کا تعلق سید فیملی سے ہے، اس کے دل کے دو وال بند ہیں، ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کی ہے، جبکہ ان کی مالی حالت اچھی نہیں ہے، کیا وہ بیت المال فنڈ سے اپنا علاج کرواسکتا ہے؟ یا یہ ان کے لیے جائز نہیں؟
مذکور فنڈ میں اگر فقط زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم ہو، اس کے علاوہ اور کوئی رقم نہ ہو تو ایسی صورت میں سید شخص کے لیے اس فنڈ سے رقم لے کر اپنے علاج ومعالجہ پر خرچ کرنا جائز نہیں، البتہ اگر زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کے علاوہ اس میں کوئی اور رقم بھی شامل ہو، یا کوئی دوسرا مستحقِ زکوٰۃ شخص اس فنڈ میں سے رقم لے کر اپنی مرضی سے سید کو دیدے تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہوگا۔
کما فی البحر الرائق: فی اصطلاح الفقہا ما ذکرہ المصنف ( قولہ ہی تملیک المال من فقیر مسلم غیر ہاشمی، ولا مولاہ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من کل وجہ اللہ تعالیٰ (ج۲ ص۲۰۱۶) واللہ اعلم