کیا زکو ۃکسی ایسے ہسپتال کے سامان وغیرہ کے لئے دی جاسکتی ہے، جس میں امیر ، غریب سب کا علاج ہو تا ہو ، جبکہ وہ رفاہی ہسپتال ہو۔
بغیر تملیک شرعی ایسے ہسپتال میں اپنی زکوۃ دینا تو درست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ تملیک شرعی کے بعد یا پھر ہسپتال والے خود کسی مستحق سے باضابطہ تملیک کرواکر ہسپتال کی ضروریات میں یہ رقم لگاتے ہوں تو یہ درست ہو گا۔
كما في الدر المختار: (يصرف) المزكى (إلى كلهم أو إلى بعضهم) ولو واحد من أي صنف كان؛ لأن أل الجنسية تبطل الجمعية، وشرط الشافعي ثلاثة من كل صنف. ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) اھ (2/ 344)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه اھ (2/ 344)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0