کیا فرماتے ہیں مفتیان دین متین مسٔلہ ذیل کے بارے میں کہ:
۱۔ مدرسہ میں زکوٰۃ کے مال کی تملیک کس طرح سے ہوگی ؟وضاحت سے جواب دیکر ممنون فرمائیں۔
۲۔ میں ایک مسجد کا امام ہوں، گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ آپ فیصد کے حساب سے چندہ کریں اور تنخواہ آپ کی وہی ہوگی، کیا اس طرح صحیح ہے؟
تملیک کا طریقہ تو یہ ہے کہ زکوۃ کی رقم مستحق زکاۃ کو دیکر اس پر اس کو مالک بنادیا جائے تو زکوۃ دینے والے کی زکاۃ ادا ہو جائے گی، چنانچہ مدرسہ میں اگر مستحق طلباء موجود ہوں تو زکوۃ کی رقم ان کو دیکر تملیک کرائی جاسکتی ہے، جس کا طریقہ یہ ہو کہ زکوۃ کی رقم طلباء کو دیکر با قاعدہ ان کو مالک و مختار بنایا جائے، پھر وہ طلباء مالک بننے کے بعد اپنی مرضی سے وہ تمام رقم یا اس کا کچھ حصہ مدرسہ کے اخراجات کیلیے دیدیں تو ایسا کرنا بلا شبہ جائز ہوگا ، جبکہ سائل کو اگر مسجد کمیٹی کی طرف سے چندہ کرنے کیلیے مختص کیا جائے ، تو ایسی صورت میں سائل کیلیے چندہ کرنے کے عوض کوئی اجرت متعین کئے بغیر فقط ہونے والے چندہ میں سے سائل کیلیے فیصدی حساب سے اجرت طے کرنا درست نہیں۔ بلکہ مسجد انتظامیہ کو چاہیے کہ چندہ کرنے پر سائل کیلیے کچھ اجرت طے کر دے، جو اسے ہر حال میں دینا لازم ہو اور پھر اس کے ساتھ اگر ہونے والے چندے میں سے بھی اس کا حصہ رکھا جائے تو اس میں مضائقہ نہ ہو گا۔
كما في القرآن الكريم : ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾ (التوبة: 60)
وفي حاشية ابن عابدين: وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني اھ (2/ 344)
وفي الدر المختار: (ولو) (دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه - صلى الله عليه وسلم - عن قفيز الطحان اھ (6/ 57)
وفي الفتاوى الهندية: ومنها أن تكون الأجرة معلومة. ومنها أن لا تكون الأجرة منفعة هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة اھ (4/ 411)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0