میرے بھائی کی ماہانہ آمدنی تقریباً ۴۸۰۰۰ ہے، اس کے تین بچے ہیں، ان کی تعلیمی اخراجات بھی ہیں، اس پہ وراثت کی مد میں 15 لاکھ کی رقم ہے، اس کے لئے بچت کر کے قرضہ اتار نا مشکل ہے ، تو کیا میں اسے زکوۃ دے سکتا ہوں؟ تاکہ وہ قرضہ اتار دیں، میں نے اپنی وراثت کی رقم معاف کر دیا تھا، دو بہنوں کا حق ہے ، اور وہ بہنیں ضرورت مند بھی ہیں۔
سائل کے بھائی کے پاس قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد اگر ضرورت اصلیہ سے زائد کوئی چیز بقدر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی ملکیت) موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو سائل اسے زکوۃ دے سکتا ہے۔
کما في الفتاوى الهندية: فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -(1/ 170)
وفي حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: قوله: "وأصل المزكي وفرعه" لأن الواجب عليه الإخراج عن ملكه رقبة ومنفعة ولم يوجد في الأصول والفروع والإخراج عن ملكه منفعة وإن وجد رقبة وهذا الحكم لا يخص الزكاة بل كل صدقة واجبة كالكفارات وصدقة الفطر والنذور لا يجوز دفعها إليهم ومن سوى ما ذكر يجوز الدفع إليهم كالأخوة والأخوات والأعمام والعمات والأخوال والخالات الفقراء بل هم أولى لما فيه من الصلة مع الصدقة ثم بعدهم الأقارب ثم الجيران بحر اھ (ص: 721)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0