مصارف زکوۃ و صدقات

مدرسہ کی تعمیروغیرہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

فتوی نمبر :
39460
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

مدرسہ کی تعمیروغیرہ میں زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

مجھے زکوۃ دینی ہے، کیا میں مدرسہ میں دے سکتا ہوں، جبکہ مدرسہ کے بچے رہائشی نہیں ہیں اور مدرسہ میں پیسوں کی کافی ضرورت ہے۔ برائی مہربانی مجھے اس کا حل بتائیں!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر مذکور مدرسہ کے تعمیری یا انتظامی اخراجات کے لئے رقم کی ضرورت ہو، تو اس میں زکوۃ کی رقم نہیں خرچ کی جاسکتی ہے، الا یہ کہ تملیک کی کوئی صورت اختیار کی جائے ، اس لئے مذکور مدرسہ کے انتظامیہ کی طرف سے اگر تملیک کی کوئی معتبر صورت اختیار نہ کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ زکوۃ کے علاوہ کسی اور مد ( صدقہ نافلہ وغیرہ) سے مذکور مدرسہ کے ساتھ تعاون کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة اھ (2/ 344)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ اھ (2/ 344)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
فروخ عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 39460کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات