مجھے زکوۃ دینی ہے، کیا میں مدرسہ میں دے سکتا ہوں، جبکہ مدرسہ کے بچے رہائشی نہیں ہیں اور مدرسہ میں پیسوں کی کافی ضرورت ہے۔ برائی مہربانی مجھے اس کا حل بتائیں!
اگر مذکور مدرسہ کے تعمیری یا انتظامی اخراجات کے لئے رقم کی ضرورت ہو، تو اس میں زکوۃ کی رقم نہیں خرچ کی جاسکتی ہے، الا یہ کہ تملیک کی کوئی صورت اختیار کی جائے ، اس لئے مذکور مدرسہ کے انتظامیہ کی طرف سے اگر تملیک کی کوئی معتبر صورت اختیار نہ کی جاتی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ زکوۃ کے علاوہ کسی اور مد ( صدقہ نافلہ وغیرہ) سے مذکور مدرسہ کے ساتھ تعاون کرے۔
كما في الدر المختار: ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة اھ (2/ 344)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: تمليكا) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي ط وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ اھ (2/ 344)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0