ہم چند نو جوان ایک اسکول غریب اور کچی آبادی میں غریب ، یتیم بچوں کے لیے چلا رہے ہیں اسکول کے اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت پورے کیے جاتے ہیں، اسکول کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تحت کیا ہم زکوٰۃ کا پیسہ وصول کر سکتے ہیں اس اسکول میں دینی اور دنیاوی دونوں تعلیم حاصل کی جاتی ہیں مزید یہ کہ اسکول کی نئی کلاسوں کی تعمیر کے لیے بھی زکوٰۃ کا پیسہ استعمال کیا جا سکتا ہے؟
مذکور اسکول میں غریب اور مستحق طلباء پڑھتے ہوں ان طلباء کی طرف سے اخذِ زکوٰۃ کے لیے سائل اور اس کے دیگر ساتھی وکیل مقرر ہوں تو زکوٰۃ کی رقم لے کر ان طلباء کی ضروریات میں لگانا جائز اور درست ہے ورنہ زکوٰۃ کی رقم بغیر تملیکِ شرعی تعمیرات میں لگانا یا تنخواہوں میں استعمال کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الہندیۃ: ولا یجوز ان یبنی بالزکاۃ المسجد وکذا القناطر والسقایات واصلاح الطرقات وکری الانہار والحج والجہاد وکل مالا تملیک فیہ (/ ۸۸)
وفی الشامیۃ: قلت وھو کذلک والأوجہ تقییدہ بالفقیر ویکون طلب العلم مرخصا لجواز سؤالہ من الزکاۃ وغیرھا وان کان قادرًا علی الکسب إذ بدونہ لا یحل لہ السؤال. (۲/ ۳۴۰)۔۔۔۔ واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0