السلام علیکم مفتیانِ کرام کیا قطب شاہی اعوان کو زکوۃ کی رقم دی جاسکتی ہے؟ جبکہ قطب شاہی اعوان حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، لیکن غیر فاطمی ہیں؟ اس بارے میں راہ نمائی فرما دیں ؟ جزاک اللہ
واضح ہو کہ جو لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نسب سے تعلق رکھتے ہیں ، خواہ وہ فاطمی ہوں یا غیر فاطمی ، ان کو زکوۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی ، لہذا قطب شاہی اعوان بھی اگر حضرت علی رضی اللہ کے نسب سے تعلق رکھتے ہوں تو ان کو زکوۃ دینا درست نہیں ہے۔
كما في تبيين الحقائق: قال - رحمه الله - (أو هاشمي) أي لا يجوز دفعها إلى بني هاشم لقوله - عليه الصلاة والسلام - «إن هذه الصدقات إنما أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد» رواه مسلم وقال - عليه الصلاة والسلام - «نحن أهل بيت لا تحل لنا الصدقة» رواه البخاري وأطلق الهاشمي هنا وفسرهم القدوري فقال هم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب وفائدة تخصيصهم بالذكر جواز الدفع إلى بعض بني هاشم وهم بنو أبي لهب لأن حرمة الصدقة كرامة لهم استحقوها بنصرهم النبي - صلى الله عليه وسلم - في الجاهلية والإسلام ثم سرى ذلك إلى أولادهم وأبو لهب آذى النبي - عليه الصلاة والسلام - وبالغ في أذيته فاستحق الإهانة قال أبو نصر البغدادي وما عدا المذكورين لا تحرم عليهم الزكاة قال - رحمه الله – اھ (1/ 303)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0