تشہد میں انگلی ہلانا کیسا ہے؟ حضرت وائل ابن حجرؓ کے مطابق نبی کریمﷺ انگلی کو حرکت دیتے تھے۔
تشہد میں مستحب یہ ہے کہ ’’لا إلٰہ‘‘ پر شہادت کی انگلی اٹھائے اور ’’الا اللہ‘‘ پر نیچے گرا دے،
اور وائل بن حجرؓ کی روایت میں جو انگلی کو حرکت دینے کا ذکر ہے اس کے بارے میں بعض ائمہ حدیث نے اس سے مراد انگلی اٹھانے اور گرانے کی صورت میں جو حرکت ہوتی ہے یہی مراد لی ہے۔
ففی سنن أبي داود: عن عبد الله بن الزبير، أنه ذكر، «أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يشير بأصبعه إذا دعا، ولا يحركها»،(1/ 260)
و فی البذل تحتہ: قال القاری قال ابن ملک ھذا الحدیث یدل علی أنہ لا یحرکھا إذا رفعھا للاشارۃ و علیہ ابو حنیفۃؒ (إلی قولہ) لاتعارض بین الحدیثین حدیث التحریک و عدمہ فانھم یقولون أنہ إذا اشار یرفعھا عند النفی و یضعھا عند الإثبات فھذا محمل التحریک عند الرفع و الوضع اما عدم التحریک فمحمول علی ما سوی ذلک کما یفعلہ بعض اہل الحدیث۔ اھ(۲/۱۲۷)۔