میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں برانچ منیجر ہوں ، تمام اسٹاف کی ذمہ داری مجھ پر ہے، اور اسٹاف کی تعداد 20 سے 25 ہے ، ہمارے لنچ کی ٹائمنگ کی سختی سے پابندی ہوتی ہے، جو کہ 1:00 سے 2:00 بجے ہے ، اسی دوران نماز بھی پڑھنی ہوتی ہے ، ہوتا یہ تھا کہ 1:30 سے 4:00 بجے تک مختلف اوقات میں لوگ الگ الگ نماز ادا کرتے اور کچھ لوگ قریبی مسجد چلے جاتے ، یہ بتانا ضروری ہے کہ تمام لوگ مسجد بھی نہیں جاتے مسجد میں جماعت کا وقت 2:00 بجے ہے ، آنا جانا نماز پڑھنا کم از کم آدھا گھنٹا لگتا ہے اور 2:30 ہو جاتے ، نتیجہ یہ نکلتا کہ کام کا حرج بھی ہوتا اور لنچ ٹائم کی پابندی بھی نہیں ہوتی، جس کا حل میں نے یہ نکالا کہ آفس میں ہی باجماعت نماز کا اہتمام کروادیا ، اسٹاف میں سے ایک باریش شخص کو تمام اسٹاف کی رضا مندی سے امامت کا فریضہ دے دیا ، اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ جن لوگوں کی نماز پڑھنے کی عادت نہیں ،وہ بھی جماعت میں شامل ہونے لگے ، آپ سے سوال یہ ہے کہ آفس کے نزدیک مسجد ہونے کے باوجود آفس میں باجماعت نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ جبکہ مقصد یہ ہو کہ وقت پر نماز ادا ہو جائے، لنچ ٹائم کی پابندی بھی ہو جائے، اسٹاف کو مسجد کے بہانے وقت ضائع کرنے سے روکا جائے ،اور یہ بھی کہ جو لوگ نہ مسجد نہ آفس میں نماز پڑھتے ہیں انہیں بھی نماز کی ترغیب دلائی جائے ؟ جواب عنایت فرمائیں ؟ شکریہ !
سوال میں مذکور مجبوری کی بناء پر آفس میں ہی جماعت کرانے کی گنجائش ہے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ جس کو امام مقرر کیا ہے وہ عقائدِ اہلِ سنت کا حامل اور مسائلِ نماز سے واقف ہو۔
ففي الدر المختار:(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) (إلی قوله) ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن (إلى قوله ) أو جنيا في مسجد أو غيره اھ (1/ 552)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ. (1/ 554)۔
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ولا فرق في ذلك بين أن يكون في المسجد أو بيته حتى لو صلى في بيته بزوجته أو جاريته أو ولده فقد أتى بفضيلة الجماعة اھ (1/ 366)۔