السلام علیکم! مفتی صاحب ہمارے گھر کے ایک کمرے کی دیوار میں الماری بنی ہوئی ہے جو کہ سامنے سے کھلی ہوئی ہے اور اس میں کتابیں رکھی ہوئی ہیں،جس کے سرورق پر مصنفین کی تصویریں ہیں جو سامنے نظر آتی ہیں کیا اس کمرے میں نماز پڑھنا درست ہے؟
۲۔ ایسے کمرے میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جس میں گھوڑے اور پَری کی شکل کے دست کار موجود ہوں؟
۳۔ اگر کمرے میں پیر صاحب کی تصویر لٹکی ہو تو کیا وہاں نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
۴۔ اسی طرح کیا ایسے کمرے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے جہاں کھلونوں پر تصویریں بنی ہوئی ہوں یا پلاسٹک کی گڑیا یا اور جانور ہوں اور اگر یہ چیزیں بستر کے اوپر ہوں کیا ان تمام صورتوں میں اس کمرے میں نماز پڑھی جاسکتی ہے؟
واضح ہو کہ جس کمرے میں جاندار کی تصویر نمازی کے سامنے یا دائیں بائیں ہو اور بڑی ہونے کی وجہ سے واضح نظر آتی ہو خواہ وہ کسی بھی جاندار کی تصویر ہو وہاں نماز پڑھنا مکروہ ہے اس جگہ نماز پڑھنے سے احتراز لازم ہے، تاہم اگر ان تصاویر کو فوری طور پر ہٹانا ممکن نہ ہو تو ان پر کپڑا وغیرہ ڈال کر چھپانے کے بعد اس کمرے میں نماز پڑھنا بلاکراہت درست ہوگا۔
کما فی رد المحتار: وکرہ (التربع) إلی قولہ (ولبس ثوب فیہ تماثیل) ذی روح وان یکون فوق رأسہ أو بین یدیہ أو بحذائہ) یمنۃ او یسرۃ أو محل سجودہ (تمثال) ولو فی وسادۃ منصوبہ لا مفروشہ۔ وفی الشامیۃ (قولہ فوق رأسہ) أی فی السقف معراج (قولہ تمثال) أی مرسوم فی جدار أو غیرہ او موضوع او معلق۔ الخ (ج۱، ص۶۴۷)