السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترم جناب مفتیانِ کرام! خدمتِ اقدس میں ایک مسئلہ عرض ہے مسئلہ یہ ہے کہ زید اپنی منگیتر سے فون پر بات چیت کیا کرتا تھا،کبھی کبھار ملاقات کرکے آمنے سامنے بھی گپ شپ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے،ایک دن منگیتر نے زید کو باتوں باتوں میں کہا کہ ایک بات بتاتی ہوں،لیکن قسم اٹھاؤ کسی کو بتاؤگے نہیں اور نہ مجھے چھوڑدوگے(چھوڑنے سے مراد منگنی توڑنا) اس نے قسم اٹھایا کہ نہ تو کسی کو بتاونگااور نہ آپ کو چھوڑسکتا ہوں آپ تو میری جان ہو،میری پسند ہو،بھلا آپ کو کیسے چھوڑسکتا ہوں،منگیتر نے کہا بات یہ ہے کہ منگنی سے کچھ وقت پہلے تک جب میں اسکول میں پڑھتی تھی،تو مجھے اسکول سے لانے اور لے جانے کے لیے ایک رکشہ والا مقرر تھا،وہ روز مجھے اسکول چھوڑتاتھا،میں رکشہ میں بیٹھ کر اسکول جایاکرتی تھی،وقت گزرتاگیا رکشہ والے سے میری بے تکلفی بڑھتی گئی،یہاں تک کہ آپس میں کھل کر گپ شپ کرنے لگ گئے،پھر تعلقات بڑھتے گئے،بات چیت بڑھتی چلی گئی،یہاں تک کہ رکشے والے نے مجھے زنا کاری،بدکاری پر آمادہ کرلیا،میں بھی انجانے میں اس سے بدکاری پر رضامند ہوئی،اور پھر ہم نے ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کرلیا یعنی بدکاری ،زناکاری کی میں اس رکشے والے سےبدکاری کی معترف ہوں،مجھے معاف کردینا،یہ غلطی مجھ سے ہوچکی ہے،یہ بات سن کر زید نے فون بند کردیا،زید کے تو اوسان ہی خطا ہوگئے اس کے پیرو ں تلے سے زمین ہی نکل گئی،وہ ششدر ہوکر رہ گیا،اب حیران وپریشا ن ہےاس کے سمجھ میں کچھ نہیں آرہا کہ کیا کرے؟ کبھی تو کہتا ہے اس سے نکاح کرلوں ،کیوں کہ یہی میری پسند ہے اس کے بغیر دل کو قرار ہی نہیں آرہا،کبھی کہتا ہے میری عزت مٹی میں مل گئی ہے،میری غیرت کا مسئلہ ہے لہذا اسے قتل کردیتا ہوں،کبھی کہتا ہے کہ اس سے ناجائز تعلقات رکھ کر بس یو نہی کام چلالیا کروں گا،کبھی کہتا ہے کہ بس منگنی برقرار رکھ کر نکاح کرلے یا منگنی توڑدے؟ نیز اسے قتل کرنا یا ویسے تعلقات قائم کرنا بغیر نکاح کے کیسا ہے؟ شرعاً رہنمائی فرمائیں کہ زید کو کیا کرنا چاہیے؟ اس کے لیے کیا کرنا بہتر ہے؟ کیا کرنا حرام ہے مذکور باتوں میں سے؟کیا نکاح درست ہے اس سے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ اس سے نکاح کرکے اپنا گھر آباد کرے؟ کیااس کو قتل کرنا اس کے لیے جائز ہے غیرت کے نام پر ؟امید ہے کہ تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں گے،جواب جلدی میں چاہیے ،اگر ہوسکے دو تین دن کے اندر ارسال فرمائیں جزاکم اللہ خیراً۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکی اگرچہ غیر مرد کےساتھ ناجائز تعلقات رکھنے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئی ہےجس پر اسے بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لیےمکمل اجتناب لازم ہے ،تاہم اگر مذکور لڑکی اپنے فعل پر ندامت کےساتھ توبہ کرتے ہوئے آئندہ کے لیے اس قسم کے قبیح عمل سے بچنے کا پختہ عزم اور اقرار کررہی ہو تو زید کے لیے اس کےساتھ نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ،لیکن اگر وہ اس گناہ کو نہیں چھوڑتی یا زید اس کے ساتھ شادی کرنے کے بجائے اس رشتے کو ختم کرکے کسی اور مناسب جگہ شادی کرنا چاہتا ہو تو اسے اس کی بھی اجازت ہےتاہم زیدکے لیے مذکور لڑکی کے اس عمل کو بنیاد بناکر اس کے قتل کے منصوبے بنانا یا اس پر طعن وتشنیع کرنا یااسے نکاح کے بغیر ناجائز تعلقات رکھنے پر مجبور کرنا قطعاً ناجائز اور حرام ہے،نیز زید کے لیے بھی نکاح سے قبل اس لڑکی سے کسی بھی قسم کے تعلقات اور بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں۔ جس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية، ومفاده أن لا إثم بمعاشرة من لا تصلي ويجب لو فات الإمساك بالمعروف ويحرم لو بدعيا.ومن محاسنه التخلص به من المكاره الخ(ج3 ص229 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی رد المحتار تحت (قوله بل يستحب) إضراب انتقالي ط (قوله لو مؤذية) أطلقه فشمل المؤذية له أو لغيره بقولها أو بفعلها ط (قوله أو تاركة صلاة) الظاهر أن ترك الفرائض غير الصلاة كالصلاة، وعن ابن مسعود لأن ألقى الله تعالى وصداقها بذمتي خير من أن أعاشر امرأة لا تصلي ط (قوله ومفاده) أي مفاد استحباب طلاقها وهذا قاله في البحر. وقال: ولهذا قالوا في الفتاوى: له أن يضربها على ترك الصلاة ولم يقولوا عليه مع أن في ضربها على تركها روايتين ذكرهما قاضي خان. اهـ.(ج3 ص229 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً تحت (قوله وأجمعوا إلخ) الظاهر أن المراد أنها لا تسقط الحد الثابت عند الحاكم بعد الرفع إليه، أما قبله فيسقط الحد بالتوبة حتى في قطاع الطريق سواء كان قبل جنايتهم على نفس أو عضو أو مال أو كان بعد شيء من ذلك كما سيأتي في بابه، وبه صرح في البحر هنا خلافا لما في النهر الخ(ج4 ص4 کتاب الحدود ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: لا تجب العدة على الزانية وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى كذا في شرح الطحاوي الخ(ج1 ص526 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: (وأما شروطه) فمنها العقل والبلوغ والحرية في العاقد إلا أن الأول شرط الانعقاد فلا ينعقد نكاح المجنون والصبي الذي لا يعقل والأخيران شرطا النفاذ؛ فإن نكاح الصبي العاقل يتوقف نفاذه على إجازة وليه هكذا في البدائع
(ومنها) المحل القابل وهي المرأة التي أحلها الشرع بالنكاح، كذا في النهايةالخ(ج1 ص267 کتاب النکاح ط: ماجدیۃ)۔