نکاح

مثنی و ثلاث و رباع سے بیک وقت اٹھارہ عورتوں کیساتھ نکاح کے جواز پر استدلال

فتوی نمبر :
38377
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

مثنی و ثلاث و رباع سے بیک وقت اٹھارہ عورتوں کیساتھ نکاح کے جواز پر استدلال

میرا سوال یہ ہے کہ قرآن کی آیت ’’ و ماطاب لکم من النساء مثنی و ثلاث و رباع‘‘ کے بارے میں شیعہ کا موقف ہے کہ ان سے 18 اٹھارہ بیویاں مراد ہیں، لیکن اہل سنت و الجماعت کا موقف ہے کہ ان سے ۴ بیویاں مراد ہیں۔ براہ مہربانی وضاحت و دلائل کے ساتھ جواب دیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اہل سنت و الجماعت کے نزدیک بیک وقت صرف چار ہی شادیوں کی شرعاً اجازت ہے، اس سے زیادہ کی نہیں، قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کی صریح اور واضح نصوص اسی مؤقف پر شاہد ہیں، اور تمام صحابہ کرام اور تابعین عظام رحمہم اللہ کا بھی یہی متفقہ مسلک ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور علماء رحمہم اللہ سے بھی مذکور آیت کی یہی تفسیر منقول ہے، نیز قرآن کریم کے دوسرے مقامات اور اہل عرب کے محاورات میں جہاں ’’ مثنی و ثلاث و رباع‘‘ مذکور ہیں، ان سے دو، تین ، اور چار ہی مراد ہوتے ہیں، کچھ اور نہیں، چنانچہ سورۃ الفاطر میں اللہ تعالیٰ فرشتوں کی تخلیق کاتذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
ترجمہ: تمام تر تعریف اللہ کی ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، جس نے ان فرشتوں کو بنایا جو پیغام لے جانے کے لیے مقرر ہیں، جو دودو، تین تین، اور چار چار پروں والے ہیں، وہ پیدائش میں جتنا چاہتا ہے اضافہ کر دیتا ہے، بیشک اللہ پر ہر چیز کی قدرت رکھنے والا ہے۔ ( آسان ترجمہ قرآن)

احادیث مبارکہ میں بھی متعدد ایسے واقعات موجود ہیں کہ بعض صحابہ کرام نے زمانۂ جاہلیت اور حالتِ کفر میں چار سے زائد نکاح کیے ہوئے تھے، پھر جب وہ اپنی تمام بیویوں سمیت مسلمان ہوئے، اور آپ ﷺ سے ان سے متعلق حکم معلوم کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہ ان میں سے اپنی پسند کی کسی بھی چار بیویوں کو اپنے نکاح میں رکھنے کا آپ کو اختیار ہے، اور باقیوں کو چھوڑ دیں، چنانچہ ان حضرات نے ایسا ہی کیا، البتہ جہاں تک خود حضور اقدس ﷺ کی ذات عالی کا تعلق ہے، تو وہ اس ضابطہ سے مستثنیٰ ہیں، اور یہ آپ ﷺ کی خصوصیت میں سے ہے۔

باقی خارجی لوگ جو بیک وقت اٹھارہ(۱۸) شادیوں اور روافض ( شیعہ) جو بیک وقت نو شادیوں کے جواز کے قائل ہیں، وہ خود نبی کریمﷺ کے فعل سے ( جو کہ آپ ﷺ کے خصائص میں سے ہے) استدلال کرتے ہیں، جو دلائل کی روشنی میں قطعاً درست نہیں، ذیل میں اس حوالہ سے چند تفسیری روایات اور احادِیث مبارکہ اختصار کے ساتھ ذکر کردی گئی ہیں، مزید تفصیل کے لیے کتب تفسیر کی طرف مراجعت مفید رہے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

و کمافی تفسیر ابن کثیر: فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ الخ الآیۃ۔
تحت قَوْلُهُ ﴿مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ﴾ أَيِ انْكِحُوا مَا شِئْتُمْ مِّن النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ إِنْ شَاءَ أَحَدُكُمْ ثِنْتَيْنِ، وَإِنْ شَاءَ ثَلَاثًا، وَإِنْ شَاءَ أَرْبَعًا، كَمَا قَالَ الله تَعَالَى: {جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلاً أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ} أي منهم من له جناحان، ومنه مَنْ لَهُ ثَلَاثَةٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ أَرْبَعَةٌ، وَلَا يَنْفِي مَا عَدَا ذَلِكَ فِي الْمَلَائِكَةِ لِدَلَالَةِ الدَّلِيلِ عَلَيْهِ، بِخِلَافِ قَصْرِ الرِّجَالِ عَلَى أربع فمن هذه الآية كما قال ابْنُ عَبَّاسٍ وَجُمْهُورُ الْعُلَمَاءِ، لِأَنَّ الْمَقَامَ مَقَامُ امْتِنَانٍ وَإِبَاحَةٍ، فَلَوْ كَانَ يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ لَذَكَرَهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ دَلَّتْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُبِيِّنَةُ عَنِ اللَّهِ إِنَّهُ لاَ يَجُوزُ لِأَحَدٍ غَيْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِ نسوة، وهذا الذي قاله الشافعي مُجْمَعٌ عَلَيْهِ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ، إِلَّا مَا حُكِيَ عَنْ طَائِفَةٍ مِنَ الشِّيعَةِ أَنَّهُ يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ إِلَى تِسْعٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بِلَا حَصْرٍ وَقَدْ يَتَمَسَّكُ بَعْضُهُمْ بِفِعْلِ رسول الله صلى الله عليه وسلم في جَمْعِهِ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ إِلَى تِسْعٍ كما ثبت في الصحيح، وهذا عند العلماء من خصائصه دُونَ غَيْرِهِ مِنَ الْأُمَّةِ لِمَا سَنَذْكُرُهُ مِنَ الأحاديث الدالة على الحصر في أربع، ولنذكر الأحاديث في ذلك. قال الإمام أحمد عَنْ سَالِمٍ عَنِ أَبِيهِ: أَنَّ (غَيْلَانَ بْنَ سلمة الثقفي) أسلم وتحته عشر نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا»، فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ، وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فقذفه في نفسك، ولعلك لا تلبث إِلَّا قَلِيلًا، وَايْمُ اللَّهِ لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ وَلَتَرْجِعَنَّ مَالِكَ أَوْ لَأُورِثُهُنَّ مِنْكَ وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كما رجم قبر أبي رغال (رواه الترمذي وابن ماجة والدارقطني إلى قوله: {اختر منهن أربعاً} والباقي من رواية أحمد} وعن ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ (غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ) كَانَ عِنْدَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَأَسْلَمَ وَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا، هَكَذَا أَخْرَجَهُ النَّسَائِيُّ فِي سُنَنِهِ. فَوَجْهُ الدَّلَالَةِ أَنَّهُ لَوْ كَانَ يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعٍ لَسَوَّغَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِرَهُنَّ فِي بقاء العشرة وقد أسلمن، فَلَمَّا أَمَرَهُ بِإِمْسَاكِ أَرْبَعٍ وَفِرَاقِ سَائِرِهِنَّ، دَلَّ عَلَى أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ أَكْثَرَ من أربع بحال، فإذا كَانَ هَذَا فِي الدَّوَامِ، فَفِي الِاسْتِئْنَافِ بِطَرِيقِ الأولى والأحرى، والله سبحانه أعلم بالصواب. (1/ 356) ۔
و فی تفسير ابن كثير : (حديث آخر) قال الشافعي في مسنده عن نوفل بن معاوية الديلي قَالَ: أَسْلَمْتُ وَعِنْدِي خَمْسُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «اخْتَرْ أَرْبَعًا أَيَّتَهُنَّ شِئْتَ وَفَارِقِ الْأُخْرَى»، فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً، عَجُوزٍ عَاقِرٍ مَعِي مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً فَطَلَّقْتُهَا، فَهَذِهِ كُلُّهَا شواهد لحديث غيلان كما قاله البيهقي(1/ 357) ۔
و فی التفسير المظهري: (مسئلة) أجاز الروافض بهذه الاية تسعا من المنكوحات وكذا نقل عن النخعي وابن ابى ليلى لاجل العطف بالواو التي هى للجمع قالوا معنى الاية فانكحوا ثنتين وثلاثا وأربعا ومجموع ذلك تسع وأجاز الخوارج ثمانى عشرة نظرا الى تكرار المعنى وكلا القولين باطلان، اما قول الخوارج فلان مثنى وأخواتها معدول عن عدد مكرر لا تقف الى حد بإزاء ما يقابله لالمكرر مرتين فمن قال لجماعة خذوا من هذه الدراهم مثنى معناه لياخذ كل رجل منكم منها درهمين درهمين وليس المعنى خذوا منها اربعة دراهم ولو كان كذلك فلا يستقيم معنى فانكحوا مثنى وثلث وربع إذ لا يتصور لجميع الناس نكاح امرأتين او ثلاث او اربع او تسع او ثمان عشرة ولذا قال صاحب الكشاف لو أفردت لم يكن معنى يعنى لو قيل فانكحوا ثنتين وثلاثا وأربعا لم يستقم المعنى واماما قالت الروافض ان المراد بها اباحة تسع لكل رجل فلانه فى عرف البليغ لا يؤدى معنى التسع بلفظ ثنتين وثلاث واربع كما لا يخفى بل المعنى انه يجوز لكل أحد نكاح ثنتين وكذا يجوز لكل نكاح ثلاث وكذا يجوز لكل نكاح اربع قال البيضاوي لو ذكرت بِأو لذهب تجويز الاختلاف فى العدد وفيه انه لو كان كذلك لذهب بالواو تجويز الاتفاق والحق انه لا تفاوت فى فهم المقصود بين مثنى او ثلث وبين مثنى وثلاث إذ لا يلتفت فى أحد الصورتين الى اشتراط ان يكون جميع الامة على نحو واحد من هذه الاقسام المجوزة البتة او على أنحاء مختلفة البتة وانما جىء بالواو لانه اقرب لافادة التوزيع عند مقابلة المجموع بالمجموع ( 2/ 7) و اللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38377کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات