نکاح

فون پر نکاح لڑکی کا بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
33433
| تاریخ :
2018-03-12
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر نکاح لڑکی کا بغیر ولی کی اجازت کے نکاح کرنا

کیا ٹیلیفون پر نکاح جائز ہے؟ اور اگر کسی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا اور گواہ لڑکے کی طرف سے ہوں سارے، اور گواہ وہاں موجود نہ ہوں جہاں لڑکی نے قبول ہے کہا ہو، بلکہ گواہ وہاں موجود ہیں جہاں لڑکا ہے اور لڑکی نے تنہائی میں کسی لڑکے کو فون پر وکیل بنایا تو نکاح ہوگیا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عام طور پر ٹیلیفون پر جو نکاح کیا جاتا ہے وہ شرائط کے مفقود ہونے کی وجہ سے شرعاً منعقد نہیں ہوتا، البتہ لڑکی مجلس نکاح میں موجود کسی شخص کو اپنے نکاح کا اختیار دیکر اس کو اپنا وکیل مقرر کر دے اور وہ شخص مجلس نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کی طرف سے ایجاب و قبول کرے تو اس طرح کرنے سے نکاح منعقد ہو جائے گا بشرطیکہ یہ نکاح کفؤ ( لڑکی کے جوڑ اور برابر کے رشتہ میں ) مہر مثل کے ساتھ کیا گیا ہو، لیکن اگر اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر کفؤ میں نکاح کیا گیا ہو تو ایسا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا، ایسے نکاح کو نکاح سمجھ کر میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی ناجائز و حرام ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما. (حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)علی الأصح اھ (۳/ ۲۱)
و فی الھندیۃ: و منھا سماع کل من العاقدین کلام صاحبہ ھکذا فی فتاوی قاضی خان اھ( ٤/۲۶۸) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد المنان ارشد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 33433کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات