نکاح

نکاح کے وقت دلہن کے والد کا نام اگر غلط لے لیا جائے تو نکاح درست ہے؟

فتوی نمبر :
40664
| تاریخ :
2020-06-08
معاملات / احکام نکاح / نکاح

نکاح کے وقت دلہن کے والد کا نام اگر غلط لے لیا جائے تو نکاح درست ہے؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ!
نکاح کے وقت قاضی نے دلہا دلہن کے نام صحیح لئے تھے پر قاضی نے دلہن کے والد کا نام ’’محمد افضل‘‘ کے بجائے ’’سید محمد افضل‘‘ پڑھا تھا۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس سے نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑتا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر دلہن گواہوں کے سامنے پہلے سے معروف تھی اور اس کے والد کے نام کے ساتھ سید لگانے سے اس کی پہچان میں کوئی ابہام نہ آیا ہو تو مذکور نکاح شرعاً منعقد ہوچکا ہے، دلہن کے والد کے نام کے ساتھ سید لگانے یا غلط پڑھنے سے اس نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: وما ذکروہ فی المرأۃ یجری مثلہ فی الرجل ففی الخانیۃ قال الإمام ابن الفضل إن کان الزوج حاضرا مشارا إلیہ جاز ولو غائبا فلا، مالم یذکر اسمہ واسم أبیہ وجدہ قال والاحتیاط أن ینسب إلی المحلۃ أیضا قیل لہ فإن کان الغائب معروفا عند الشہود؟ قال وإن کان معروفا لا بد عن إضافۃ العقد إلیہ وقد ذکرنا عن غیرہ فی الغائبۃ إذا ذکر اسمہا لا غیر وہی معروفۃ عند الشہود وعلم الشہود أنہ أراد تلک المرأۃ یجوز النکاح اھـ والحاصل أن الغائبۃ لا بد من ذکر اسمہا واسم أبیہا وجدہا وإن کانت معروفۃ عند الشہود علی قول ابن الفضل وعلی قول غیرہ یکفی ذکر اسمہا إن کانت معروفۃ عندہم وإلا فلا وبہ جزم صاحب الہدایۃ فی التجنیس وقال لأن المقصود من التسمیۃ التعریف وقد حصل وأقرہ فی الفتح والبحر۔ اھـ (ج۷، ص۴۵۷) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 40664کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات