نکاح

آئن لائن نکاح اورکورٹ میرج کا حکم

فتوی نمبر :
37013
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آئن لائن نکاح اورکورٹ میرج کا حکم

اگر لڑکا اور لڑکی اپنی مر ضی سے کورٹ میرج کر لیں اور بعد میں لڑکی پر دباؤڈال کر خلع لینے پر مجبور کیا جائیے ،اسکا کیا حکم ہے؟ اور آیا نکاح خواں اور گواہ ویڈیو کے ذریعے آن لائن دیکھ رہے ہوں لڑکا لڑکی کو ایجاب وقبول کرنے سے نکاح منعقد ہوگا یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کے لئے متعاقدین (لڑکا، لڑکی) یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں مووجود ہونا لازم اور ضروری ہے، اس لئے ویڈیو کال کے ذریعے آن لائن ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد نہ ہوگا۔
جبکہ اولیاء کی وضا مندی کے بغیر لڑ کی کا کورٹ میر ج کر لینا انتہائی نامناسب فعل ہے جو کہ عرفا خاندان کی بدنامی کا باعث بنتا ہے اور بڑوں کی سر پر ستی اور دعاؤ ں سے خالی ہو نے ہو نے کی وجہ سے عمو ما ایسا نکاح طلاق و خلع پو منتج ہو جاتا ہے اور ایا نکاح اگا غیر کفو میں ہو تو شر عا منعقد بھی نہیں ہو تا تا ہم اگر یہ نکاح کفو میں ہو شر عا منعقد ہو جا تا ہے لیکن نکاح منعقد ہو نے کے بعد بلا کسی عذر کے لڑکی کو خلع پر مجبور کرنا تو درست نہیں، البتہ اگر کوئی عذر ہو اور دونوں کیلئے نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو رو ایسی صورت میں لڑکے کو خلع یا طلاق پر رضامند کر کے کر کے اس سے خلاصی حاصل کی جاسکتی ہے۔


کما فی الدر المختار: ومن شرائط الا یجاب والقبول۔ اتحاد المجلس لوحاضرین وان طال۔ (ج۳؍۱۴)


وفیہ: (ویفتی) فی غیر الکفء (بعدم جوازہ اصلا) وہو المختار للفتوی (لفسادالزمان)۔ (ج۳؍۵۶)


وفی الھدایہ: ولاینعقد نکاح المسلمین الا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین اور جل وامر اتین عدولا کانوا اوغیر عدول او محدودین فی القذف قالﷺ اعلم ان الشھادہ شرط فی باب النکاح لقولہ علیہ الصلوۃالسلام (لانکاحوفی الفقۃ الا سلامی: (تحت قولہ صحۃالتکیل بالزواج) یری الحنفیۃ انہ یصح التوکیل بعقد الزوج من الرجل والمراۃ(الی قولہ)ویصح التوکیل بالعبارۃ والکتابۃ الخ (ج۷؍۳۲۰)واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 37013کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات