اکثر لوگ سید کے نام پر غیر سید سے نکاح سے انکار کرتے ہیں اور جواز ابو الفرج اصفہانی اور شیخ جمال الدین کی روایت(واقعہ) کو پیش کرتے ہیں جس میں انھوں نے حضر امام زین العابدین کے پوتے عیسی کی بات نقل کی ہے جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ سیدزادی کی نکاح غیر سید سے ناجائز ہے۔۔۔ برائے مہربانی سید و غیر سید کے نکاح کے حوالے سے قران وسنت وائمہ کرام اور تمام مکتبہ فکر کی طرز زندگی کی روشنی میں وضاحت کریں۔شکریہ
واضح ہو کہ سید زادی کا نکاح اولیاء کی اجازت کے بغیر غیر سید سے درست نہیں، البتہ سیدہ کے اولیاء اگر غیر سید کے ساتھ نکاح پر راضی ہوں تو ایسا نکاح بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
فی درالمختار: (الکفاءۃ معتبرۃ) فی ابتداء النکاح للزومہ او لصحتہ (من جانبہ)ای:الرجل لان الشریفۃ تابی ان تکون فراشا للدنیء ولذا (لا)تعتبر(من جانبھا)لان الزوج مستفرش فلا تغیظیہ دناء ۃ الفراش وہذا عند الکل فی الصحیح۔ اھـ (۳/۴۸)
فی بدائع الصنائع: واما الثانی فاالنکاح الذی الکفاء ۃ فیہ شرط لزومہ ھو إنکاح المرأۃ نفسھا من غیر رضا الاولیاء لا یلزم حتی لو زوجت نفسھا من غیر کف ء من غیر رضا الا ولیاء لا یلزم اھـ (۲/۳۱۷)۔ واللہ اعلم باالصواب