نکاح

کسی لڑکے یا لڑکی کا خنثی مشکل کے ساتھ نکاح کرنا

فتوی نمبر :
29085
| تاریخ :
2016-08-10
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کسی لڑکے یا لڑکی کا خنثی مشکل کے ساتھ نکاح کرنا

سوال: کسی لڑکے یا لڑکی کا مخنث کے ساتھ نکاح جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

خنثی مشکل ( یعنی جس شخص میں مرد و عورت کی علامت بالکل مساوی برابر ہوں ) سے کسی لڑکے یا لڑکی کا نکاح شرعاً جائز نہیں، البتہ خنثیٰ غیر مشکل یعنی وہ خنثی کہ جس میں مردانہ قُوٰی اور علامات غالب ہوں تو شرعاً مرد شمار ہونے کی وجہ سے اس کا کسی لڑکی سے نکاح اور اگر اس میں زنا نہ صلاحیتیں اور علامات غالب ہوں تو اس کا کسی مرد سے نکاح شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار): عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر والخنثى المشكل الخ(3/ 3)۔
و فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)
(قوله: فخرج الذكر والخنثى المشكل) أي أن إيراد العقد عليهما لا يفيد ملك استمتاع الرجل بهما لعدم محليتهما له، وكذا على الخنثى لامرأة أو لمثله، ففي البحر عن الزيلعي في كتاب الخنثى: لو زوجه أبوه أو مولاه امرأة أو رجلا لا يحكم بصحته حتى يتبين حاله أنه رجل أو امرأة فإذا ظهر أنه خلاف ما زوج به تبين أن العقد كان صحيحا، وإلا فباطل؛ لعدم مصادفة المحل وكذا إذا زوج خنثى من خنثى آخر لا يحكم بصحة النكاح حتى يظهر أن أحدهما ذكر والآخر أنثى. اهـ. (3/ 4) و اللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کاشف محمود اسلم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 29085کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات