نکاح

لڑکے کا غلط معلومات دینے سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا

فتوی نمبر :
32920
| تاریخ :
2018-02-01
معاملات / احکام نکاح / نکاح

لڑکے کا غلط معلومات دینے سے نکاح پر اثر نہیں پڑتا

کیانکاح درست ہوگا اگر کوئی غلط معلومات دے مثال کے طور پر اپنی عمر اور کام کے بارے میں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عمرکے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے سے عقد نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا البتہ کام سے متعلق اگر نکاح کے وقت ایسی معلومات دی ہوں کہ اس سے مقصود اپنے آپکو کفو ظاہر کرنا ہو اور اس پر اعتماد کر کے نکاح کر رہا ہو، مگر بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ کفو نہیں ہے تو لڑکی اور اس کے اولیاء کو معلوم ہوتے ہی نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہوگا بعد میں نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الھدایۃ: النکاح ینعقدبالإیجاب و القبول بلفظین یعبربھما عن الماضی(۲/ ۳۰۵)
و فی الھندیۃ: أن المرأة إذا زوجت نفسها من رجل ولم تشترط الكفاءة ولم تعلم أنه كفء أو غير كفء ثم علمت أنه غير كفء لا خيار لها ولكن للأولياء الخيار، وإن كان الأولياء هم الذين باشروا عقد النكاح برضاها ولم يعلموا أنه كفء أو غير كفء فلا خيار لواحد منهما وأما إذا شرط الكفاءة أو أخبرهم بالكفاءة ثم ظهر أنه غير كفء كان لهم الخيار(۱/ ۲۹۳)۔ و اللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رشید رضا عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 32920کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات