کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان شخص کا کتابی لڑکی یعنی عیسائی لڑکی سے نکاح کرنا دورِ حاضر میں جائز ہے یا نہیں؟براہ ِکرم تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔
مسلمان مرد کےلیے یہودی یا عیسائی لڑکی سے نکاح فی نفسہ حلال ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے دین میں سینکڑوں تحریفات ہونے کے باوجود دو مسئلوں (ذبیحہ اور نکاح) میں ان کا مذہب اسلام کے مطابق ہے، ایک ذبیحہ پر اللہ کا نام لینا ضروری سمجھتے ہیں اس کے بغیر جانور کو مردار،" میتہ" اور ناپاک و حرام قرار دیتے ہیں اور دوسرا مسئلہ نکاح میں، یعنی جن عورتوں سے اسلام میں نکاح حرام ہے ان کے مذہب میں بھی حرام ہے اور جس طرح اسلام میں نکاح کا اعلان گواہوں کے سامنے ہونا ضروری ہے اس طرح ان کے مذہب میں بھی یہی احکام ہیں ، تاہم موجودہ دور کے عیسائی اور یہودی فقط نام کے عیسائی اور یہودی ہوتے ہیں اور حقیقت میں دہریہ اور منکرِ خدا ہوتے ہیں، اس لیے ان کی عورتوں کا بھی وہی حکم ہے جودیگر مشرکین کی عورتوں کا ہے، البتہ جو لوگ حقیقتاً یہودیت اور نصرانیت پر قائم ہوں ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کرنا اب بھی فی نفسہ حلال ہے، مگر بہت سے مفاسد اور خرابیوں کی بناء پر جمہور صحابہ و تابعین ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کے زمانہ میں دو، تین صحابہ کرامؓ نے اہلِ کتاب کی عورتوں کے ساتھ نکاح کر لیا تھا، حضرت عمررضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو سخت ناراض ہوئے اور حکم دیا کہ ان کو طلاق دیں۔
حضرت مفتی شفیع رحمہ اللہ نے معارف القرآن ۳/۶۴ میں اس مسئلہ کو تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد آخر میں لکھا ہے کہ قرآن و سنت اورا سوۂ صحابہ کی رو سے مسلمانوں پر لازم ہے کہ آج کل کی کتابی عورتوں کو نکاح میں لانے سے کُلّی پرہیز کریں۔
ففی التفسير المظهري: وعموم هذه الاية يقتضى جواز نكاح الكتابية الحربية وعليه انعقد الإجماع (إلی قوله) لاستلزام النكاح مصاحبة الكافرة وموالاتها وتعريض الولد على التخلق بأخلاق الكفار لاجل مصاحبة الام وموانستها قال ابن همام نكح حذيفة وطلحة وكعب بن مالك كتابيات فغضب عمر رضى الله عنه فقالوا انطلق يا امير المؤمنين؟ وهذه القصة تدل على جواز النكاح حتى يترتب عليه الطلاق وعلى كراهته الخ (3/ 41)۔
و فی البحر المديد في تفسير القرآن المجيد: وَ(أحل لكم )الْمُحْصَناتُ أي: الحرائر (مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتابَ مِنْ قَبْلِكُمْ)، فأحل الله نكاح اليهودية والنصرانية الحُرتين دون إمائهم،( إِذا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَ )أي: أعطيتموهن مهورهن. فلا يجوز نكاح الكتابية إلا بصداق شرعي. اھ(2/ 11)۔
و فی الأساس في التفسير: وبالنص في سورة المائدة أبيح لنا نكاح الكتابيات فتعينت حرمة نكاح المسلمة من مشرك وجاز نكاح المسلم من الكتابية. قال القرطبي بعد أن نقل قول ابن عمر في عدم جواز نكاح الكتابية: قال النحاس: وهذا قول خارج عن قول الجماعة الذين تقوم بهم الحجة، لأنه قد قال بتحليل نكاح أهل الكتاب من الصحابة، والتابعين جماعة، منهم: عثمان، وطلحة، وابن عباس، وجابر، وحذيفة، ومن التابعين: سعيد بن المسيب، وسعيد بن جبير، والحسن، ومجاهد، وطاوس، وعكرمة، والشعبي، والضحاك؛ وفقهاء الأمصار عليه. اھ(1/ 526)۔