احکام نماز

بسم اللہ کو سورتِ فاتحہ کے ساتھ وصل کر کے پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
27639
| تاریخ :
عبادات / نماز / احکام نماز

بسم اللہ کو سورتِ فاتحہ کے ساتھ وصل کر کے پڑھنے کا حکم

جب بسم اللہ کے”وصل“کے ساتھ”سورۂ فاتحہ“پڑھنی ہے تو ہر بار پوری“بسم اللہ“پڑھنا ہے یا دوسری بار پڑھیں تو ” مِلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ“پڑھیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

”سورۂ فاتحہ“سے پہلے جب بھی بسم اللہ پڑھیں تو پوری ” بسم الله الرحمٰن الرحیم“ پڑھنا مستحب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: (سمى) غير المؤتم بلفظ البسملة، لا مطلق الذكر كما في ذبيحة ووضوء (سرا فی) أول (كل ركعة) ولو جهرية ۔ اھ (1/490)
وفي الهندية: (ثم يأتي بالتسمية) ويخفیها وهي من القرآن آية للفصل بين السور۔ (1/74)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 27639کی تصدیق کریں
0     1002
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات