محترم جناب مفتی صاحب!
۱۔ ملک "عمان" میں نماز باجماعت پڑھنے کے بارے میں معلوم کرنا تھا کہ وہاں کی اکثریت عبادی مسلک ہیں اور وہ لوگ ظہر و عصر کی نمازوں میں پہلی دو رکعتوں میں سورتِ فاتحہ کے بعد کچھ نہیں پڑھتے ، اور تکبیرِ تحریمہ کے لۓ کانوں تک ہاتھ نہیں اُٹھاتے، نیز دُعائے ثناء پہلے پڑھ کر تکبیر باندھتے ہیں اور فوراً ہی بسم اللہ سمیت فاتحہ پڑھنے لگتے ہیں، کیا ہم حنفی المسلک کے لوگوں کا ان کے ائمہ کے اقتداء میں نماز پڑھنا صحیح ہے؟ یہاں بعض علماء کہتے ہیں کہ اقتداء صحیح ہے، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ عقائد میں اختلاف ہے اور غلط ہیں، براہِ کرم جواب ارسال فرما دیں۔
۲۔ میں ایک کالج میں ملازم ہوں اور اکثر طالبات ہیں 21۔20 ، وہ مجھے سلام کرتی ہیں اور میں جواب دیتا ہوں اور کبھی میں سلام میں پہل کرتا ہوں اور وہ جواب دیتی ہیں، کیا اس طرح نامحرم عورتوں اور لڑکیوں کو سلام کرنا جائز ہے۔
۱۔ اگر واقعۃً وہ ظہر اور عصر کی نماز میں ، پہلی دو رکعتوں میں قصداً سورتِ فاتحہ کے بعد سورت نہ ملاتے ہوں ، تو ان کی اقتداء میں یہ نمازیں پڑھنا جائز نہیں، تاہم اگر ان کے مکمل عقائد تحریر کر کے ارسال کر دیے جائیں تو ان کا حکم اور ان کی اقتداء میں دیگر نمازیں پڑھنے کا حکم بھی تحریر کر دیا جائےگا۔
۲۔ جوان لڑکیوں کو ابتداءً سلام کرنا مکروہِ تحریمی ہے، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اگر وہ سلام میں پہل کریں، تو دل ہی دل میں اس کا جواب دے دیا کریں زبان سے جواب دینے سے احتراز کریں۔
فی الدر المختار : (و ضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها ، هو ثلاث آيات قصار (إلی قوله) (في الأوليين من الفرض) اھ (1/ 458)۔
و فی الدر المختار : (قوله سلامك مكروه) ظاهره التحريم (إلی قوله) (قوله الفتيات) جمع فتية : المرأة الشابة اھ (1/ 616)۔
و فی : حاشية ابن عابدين : و إذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل - عليها السلام - بلسانه بصوت تسمع ، و إن كانت شابة رد عليها في نفسه ، و كذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس اهـ (6/ 369)۔