کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام درج مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ اگر امام شافعی المسلک ہو اور مقتدی حنفی المسلک ہو اور مذکورہ امام کا خون نکلنے سے وضو ٹوٹ گیا ہو (اگرچہ شافعی مسلک کے لحاظ سے خون کی وجہ سے وضو ناقض نہیں ہوتا تو کیا کیا حنفی مقتدیوں کی نماز ایسے امام کی پیچھے درست ہے کہ نہیں؟
۲۔ اور بالعکس اگر مذکورہ امام کا اس کے اپنے مسلک کے لحاظ سے وضو نہ ہو، لیکن حنفی مقتدیوں کے نزدیک اس کا وضو قائم ہے تو اس صورت میں حنفی مقتدیوں کی نماز ہوگی یا نہیں؟جواب دے کر ثواب دارین کے مستحق ہو۔
مذکور دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کی اقتداء جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: والذي يميل إليه القلب عدم كراهة الاقتداء بالمخالف ما لم يكن غير مراع في الفرائض، لأن كثيرا من الصحابة والتابعين كانوا أئمة مجتهدين وهم يصلون خلف إمام واحد مع تباين مذاهبهم و فی الدر المختار: والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام وصحة صلاة إمامه اه (1/ 549)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وصحة صلاة إمامه) فلو تبين فسادها فسقا من الإمام أو نسيانا لمضي مدة المسح أو لوجود الحدث أو غير ذلك لم تصح صلاة المقتدي لعدم صحة البناء اھ(1/ 551) ـــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!