اسلام میں قضاء نماز کی کیا اہمیت ہے؟ مطلب جس کسی شخص نے بالغ ہونے کے بعد سے 8 سال تک کوئی نماز نہیں پڑھی اور اس کے بعد نماز کا خیال آیا، تو کیا اسے وہ ساری نمازیں پڑھنی پڑینگی جو اس نے آٹھ سال میں چھوڑی ہیں؟ ہمارے ہاں کچھ اہلِ حدیث ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ غفور رحیم ہے اس سے معافی چاہیئے ، ضروری نہیں کہ ساری ان آٹھ سالوں کی نمازوں کو پڑھا جائے جو چھوڑی ہوں، بس اللہ سے معافی مانگ لو اور آگےکی فکرکرو۔
جو نمازیں چھوٹ جائیں، ان کی قضا لازم ہے، صرف زبانی توبہ کرنے سے معاف نہیں ہوتیں، لہذا شخصِ مذکور کے ذمہ ان آٹھ سالوں کی نمازوں کی قضا لازم ہے , بلاوجہ اس میں تاخیر بھی درست نہیں بلکہ حسبِ موقع ان نمازوں کی قضا کرتا رہے، جبکہ کسی کا یہ کہنا کہ ان نمازوں کی قضا ضروری نہیں صرف معافی مانگنی چاہئیے , یہ غلط ہے اور تحقیق کے لحاظ سے درست نہیں۔
كما في الصحيح للبخاري: من نسى صلاة فليصل إذا ذكرها ، لا كفارة لها إلا ذلك الخ۔(۸۴۱)
وفي البحر: فالاصل فيه أن كل صلاة فاتت عن الوقت بعد ثبوت وجوبها فيه فانه يلزم قضاءها سواء تركها عمداً أو سهوا او بسبب نوم وسواء كانت الفوائت قليلة أو كثيرة(14/2)۔