محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ!
اگر مسجد میں صف کے درمیان پلر آجائے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس کوصف کے درمیان فاصل تو نہیں کہا جائے گا یعنی اس سے نماز کے فاسد ہو جانے کا خدشہ تو نہیں ہو گا؟ اگر ہوگا تو کیوں اور اگر نہیں تو کیوں؟ پوری وضاحت سے مسئلہ کی وضاحت فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں!
صف کے درمیان ستون اور پلر حائل ہونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، ملاحظ فرمائیں!
ففي سنن الترمذي: عن عبد الحميد بن محمود، قال: صلينا خلف أمير من الأمراء، فاضطرنا الناس فصلينا بين الساريتين فلما صلينا، قال أنس بن مالك: كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم. (إلی قوله) وقد كره قوم من أهل العلم: أن يصف بين السواري. وبه يقول أحمد، وإسحاق. وقد رخص قوم من أهل العلم في ذلك اھ(304/1) واللہ اعلم