اکثر لوگ ہر جمعہ واے دن ’’ جمعہ مبارک‘‘ کے مسیج کر کے مبار کباد دیتے ہیں، جیسے عید پر مبارک باد دی جاتی ہے؟ برائے مہربانی اس مسئلہ کی اصلاح فرمائیں؟
جمعہ کے دن کسی کو ’’ جمعہ مبارک‘‘ کہنا یا ’’جمعہ مبارک‘‘ کا مسیج کر کے مبارک باد دینا فی نفسہ جائز ہے بشر طیکہ اسکو حکم شرعی سمجھ کر لازم نہ سمجھا جائے، ورنہ نا جائز ہوگا، لیکن آجکل معاشرہ میں جس طرح اسکو پھیلایا جا رہا ہے اور مسنون سمجھ کر ایک دوسرے کو سینڈ کیا جا رہا ہے اس سے احتراز ہی بہتر ہے۔
وفی الشامیۃ: قال المحقق ابن امیر حاج: بل الأشبہ أنہا جائزۃ مستحبۃ فی الجملۃ، ثم ساق آثارا بأسانید صحیحۃ عن الصحابۃ فی فعل ذلک ثم قال: والتعامل فی البلاد الشامیۃ والمصریۃ ’’عید مبارک ونحوہ‘‘ وقال یمکن أن یلحق بذلک فی المشروعیۃ، والاستحباب؛ لما بینہما من التلازم، فإن من قبلت طاعتہ فی زمان، کان ذلک الزمان علیہ مبارکًا علی أنہ قد ورد الدعاء بالبرکۃ فی أمور شتّی، فیؤخذ منہ استحباب الدعاء بہا ہنا أیضا‘‘. (۲/ ۱۶۹) واللہ الہادی إلی الصواب
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1