السلام علیکم!
محترم مفتی صاحب!
دیوبندی یومِ صدیق اکبر مناتے ہیں یہ دن فاروق اعظمؓ کے دور خلافت میں دس مرتبہ عثمان غنیؓ کی خلافت میں ۱۲ مرتبہ حضرت علیؓ کی خلافت میں ۴ مرتبہ آیا کیا انہوں نے کبھی منایا؟ اس دن تعطیل کا اعلان کیا؟ بقول دیوبندیوں کے کہ جو کام صحابہ نے نہیں کیا ہو وہ بدعت ہے، (جیسےمروجہ میلاد) اور ہر بدعت گمراہی اور جہنم میں لے جانےوالی ہے تو بقول اپنے دیوبندیوں کے کیا ہوا۔ براہ کرم جواب مرحمت فرماکر مشکور ہوں۔
اگر اس کو ثابت اور باعثِ ثواب سمجھ کر منایا جائے تو یہ بلاشبہ بدعت ہے، چاہے بریلوی منائیں یا دیوبندی، مگر دیوبندیوں میں سے جو لوگ اس کے منانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ محض ملکی حالات اور روافض کے مقابلہ ہیں ایسا کر رہے ہیں نہ کہ ثابت اور باعث ثواب سمجھ کر۔
ففي الصحیح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم - : «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس فيه، فهو رد» اھ (۱/۳۷۱)۔
وفي فتح الباري: والمراد به أمر الدين اھ (۵/۳۸۰)۔ واللہ أعلم بالصواب!
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1