کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن خوانی میں مکمل قرآن ختم کرنا لازم ہے یا نہیں؟
اگر یہ قرآن خوانی کسی کے فوت ہونے پر اس کے تیجہ اور چالیسواں وغیرہ یعنی رسم و رواج کے طور پر کی جاتی ہو اور اسے لازم اور ضروری سمجھا جاتا ہو تب تو ابتداءً یہ عمل ہی درست نہیں، بدعتِ محض ہے، جس سے احتراز ضروری ہے۔
اور اگر کسی کے ایصالِ ثواب کےلیے ہو، مگر اس اجتماع وغیرہ کو غیر ضروری سمجھ کر کیا جاتا ہو اور نہ ہی ہر ایک عزیز و متعلقین وغیرہ کی شرکت کو لازم سمجھا جاتا ہو یا محض خیر و برکت کے حصول کےلیے قرآن خوانی کی جاتی ہو تو اس صورت میں بھی پورا قرآنِ کریم ختم کرنا لازم اور ضروری نہیں، بلکہ وقت کی مناسبت سے جتنا ہو سکے وہی کافی ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: و في البزازية: و يكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول و الثالث و بعد الأسبوع و نقل الطعام إلى القبر في المواسم، و اتخاذ الدعوة لقراءة القرآن و جمع الصلحاء و القراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. و الحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره. و فيها من كتاب الاستحسان: و إن اتخذطعاما للفقراء كان حسنا اهـ و أطال في ذلك في المعراج. وقال: و هذه الأفعال كلها للسمعة و الرياء فيحترز عنها لأنهم لا يريدون بها وجه الله تعالى. اهـ. (2/ 240، 241)۔
و فی تنقیح الحامدية: کل امر یؤدی الی زعم الجھال سنية امر او وجوبه فھو مکروہ کتعیین السور للصلاة و تعیین القراءة لوقت ونحوہ اھ (2/367)۔
وفی فتح الباری ان المندوبات قد تنقلب مکروھات اذا رفعت عن رتبتھا لان التیامن مستحب فی کل شیء ای من امور العبادات لکن لما خشی ابن مسعود ان یعتقدوا وجوبه اشار الی کراھته اه (ج2ص338)۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1