(1)۔محرم میں چاول بناکر تقسیم کرنا چاہیے یا نہیں ؟
(2)۔ کیا آپ ﷺ اپنی قبر میں زندہ ہے ؟
(۱)۔ چاول بنانا ،اور اسے لوگوں میں تقسیم کرنا فی نفسہ جائز اور درست، بلکہ موجب ثواب ہے ، لیکن اس کو صرف محرم کے مہینے کے ساتھ خاص کرنا ،یا اس میں زیادہ اجر وثواب سمجھنا ناجائز اور بدعت ہے ۔ جس سے احتراز لاز م ہے۔
(2)۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے روضہ اطہر میں حیات ہیں ۔اور آپﷺ کی یہ حیات مثل دنیوی حیات بلکہ اس سے بھی اعلیٰ وارفع ہے مگر یہ حیات برزخی ہے ۔ اس لیے حدیث مبارکہ کی رو سے جو شخص روضہ اطہر کے پاس آپ ﷺ پر درود پڑھتا ہے ۔ تو آپﷺ اس کو بذات خود سنتے ہیں ۔ اور جواب دیتے ہیں ۔اور جو شخص دور سے درود پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ذریعہ آپﷺ تک پہنچاتے ہیں ۔
کما فی مجموعة سائل اللکھنوی: فکم من مباح یصیر بالا لتزام من غیر لزوم و التخصیص من غیر محصص (الی قوله) مکروھاً کماصرح بہ علی القاری فی شرح المشکوة، و الحصفکی فی الدر المختار الخ (ج3ص490) ۔
ففی مشكاة المصابيح : وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته» . رواه البيهقي في شعب الإيمان شا(1/ 295)
و فیها أیضاً: عن أبی ھر یرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «لا تجعلوا [ص:292] بيوتكم قبورا ولا تجعلوا قبري عيدا وصلوا علي فإن صلاتكم تبلغني حيث كنتم» . رواه النسائي اھ(1/ 291)
و فی الحاوی: حیات البنی فی قبرہ ھو و سائر الأنبیاء معلومة عندنا علمًا فطعیًا لما قام عندنا من الادلة فی ذلك و تواترت به الاخبار ۔ (ص 554) ۔ والله أعلم بالصواب!
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1