کیا فرماتے ہیں علماءِکرام ومفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ:
(۱) میت کے جنازے کے بعد میت کے قریب دائرہ بنانا اور قرآن بیچ میں رکھ کر اس پر ہاتھ رکھنا اور قرآن کے نیچے رکھی ہوئی رقم کو قبول کرنے اور اس کے بعد اس رقم کو تقسیم کرنے (جس کو علاقے کے عرف میں اسقاط کہا جاتا ہے) کا کیا حکم ہے ؟ مہربانی فرماکر جواز و عدمِ جواز پر دلائل کے ساتھ مفصل جواب تحریر فرمائیں۔
(۲) میت کے سپرد خاک کرنے کے بعد کئی جمعوں تک جمعہ کے دن صدقہ کرنا اور مسلسل سات آٹھ جمعے پورے کرنا اور اس کو لازم سمجھنے کا کیا حکم ہے؟
(۳) چالیس دن کے بعد خیرات کرنا کیسا ہے؟
(۴) کوئی شخص اپنی زندگی میں قرآن کو ہاتھ نہ لگائے مگر وصیت کرے ’’کہ میری موت کے بعد میرے پیچھے دائرے میں قرآن کو لاکر ہاتھ رکھنا‘‘ یہ کیسا ہے؟ اس وصیت پر عمل کیا جائے گا کہ نہیں؟ قرآن سے اس کو نفع ہوگا کہ نہیں؟
(۵) لوگ کہتے ہیں کہ عصر کے وقت میت کو تکلیف ہوتی ہے اس لئے فاتحہ کیلئے عصر کے بعد روزانہ وہاں جانا کیسا ہے؟
(۶) کوئی مرجائے اور اس نے زندگی میں کئی روزے چھوڑ دئیے ہوں وہ وصیت کرے کہ فدیہ دے دیں مگر عدد معلوم نہیں تو کیا کیا جائے گا اسی طرح اگر وہ وصیت نہ کرے تو کیا حکم ہے؟
(۷) جس گھر میں میت واقع ہو کیا اس گھر میں تین دن تک آگ جلانا درست نہیں؟ کھانا گاؤں والے لاتے ہیں کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ اس گھر میں آگ جلانا درست نہیں؟
(۱۔ ۴) میت کی فوت شدہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دوسرے فرائض و واجبات کی ادائیگی یا کفارہ کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے؟ جس سے وہ (میت ) بری الذمہ ہوجاۓ ، اس کا بیان کتبِ فقہ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے، جس کا کچھ خلاصہ لکھا جاتا ہے، وہ یہ کہ حیلۂ اسقاط یا ’’دَور‘‘ بعض فقہاءِ کرام نے ایسے شخص کے بارے میں تجویز کیا تھا جس کی کچھ نمازیں اور روزے اتفاقاً فوت ہوگئے ہوں اور اُسے قضاء کرنے کا موقع نہیں ملا کہ اس کا انتقال ہوگیا، اور انتقال کے وقت ان فوت شدہ فرائض کا فدیہ دے دینے کی وصیت کی ہو مگر اس کے ترکہ میں اتنا مال نہیں کہ اس سے فوت شدہ فرائض کا فدیہ ادا کیا جاسکے۔
چنانچہ فقہاءِ کرام کی مذکورہ بالا تجویز کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ اس کے ترکہ میں مال و متاع موجود ہو اس کو تو وارث بانٹ کھائیں، اور تھوڑے سے پیسے لے کر حیلہ حوالہ کرکے خلقِ خُدا کو فریب دیا جائے، فتاویٰ شامی اور دیگر کتبِ فقہ میں اس کی تصریح موجود ہے اور حیلہ کی شرائط میں واضح طور پر اس کی صراحت فرمائی گئی ہے کہ جو رقم کسی کو صدقہ کے طور پر دی جائے اسے اس رقم کا حقیقی طور پر مالک و مختار بنادیا جائے کہ جو چاہے کرے، ایسا نہ ہو کہ ایک کے ہاتھ سے دوسرے کے ہاتھ میں دینے کا محض ایک کھیل کھیلا جائے جیسا کہ عموماً آج کل اس حیلہ میں کیا جاتا ہے کہ نہ دینے والے کا مقصد ہوتا ہے اور نہ لینے والے کو یہ تصور و خیال ہوسکتا ہے کہ جو رقم میرے ہاتھ میں دی گئی ہے میں خود اس کا مالک ومختار ہوں، بس دو چار آدمی متعین ہوتے ہیں وہ بیٹھ جاتے ہیں اور ایک رقم کو باہمی ہیرا پھیری کا ایک ٹوٹکا بناکر اُٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے میت کا حق ادا کردیا ہے اور وہ سب ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگیا ہے، حالانکہ اس لغو حرکت سے نہ تو میت کو کوئی ثواب پہنچتا ہے اور نہ اس کے فرائض وواجبات کا کفارہ ادا ہوتا ہے، اور کرنے والے مفت میں گناہگار ہوئے۔
الغرض اس حیلہ کی ابتدائی بنیاد ممکن ہے کہ کچھ صحیح اغراض اور قواعدِ شرعیہ کے مطابق ہو لیکن جس طرح کا رواج اور التزام آج کل چل گیا ہے وہ بلاشبہ ناجائز وبدعت اور بہت سے مفاسد پر مشتمل ہونے کی بناء پر قابلِ ترک ہے۔
(۲۔۳۔۵) میت کے ایصالِ ثواب کیلئے صدقہ وخیرات کرنا، قرآن کریم کی تلاوت کرنا یا دیگر نفلی عبادات وغیرہ کرنا جائز اور درست ہے، البتہ اس کیلئے کسی دن اور وقت کی تعیین کرنا قطعاً درست نہیں، بلکہ بدعت ہونے کی بناء پر اس سے احتراز ضروری ہے، اسی طرح تقسیمِ ترکہ سے قبل جمیع ترکہ سے صدقہ وخیرات کرنا درست نہیں اور عصر کے بعد عذاب میں شدت ہوجانے کا کوئی ثبوت نہیں۔
(۶) فوت شدہ نماز اور روزہ کا فدیہ میں تفصیل یہ ہے کہ میت نے اگر فدیہ دے دینے کی وصیت کی ہو تو میت کے کفن دفن کے متوسط مصارف اور واجب الادا قرض کے ادا کرنے کے بعد اس کے بقیہ کل مال کی ایک تہائی (۳/۱) حصہ میں وصیت پر عمل کرنا واجب ہے، اور اگر وصیت نہ کی ہو تو اس صورت میں ورثاء پر فدیہ کا ادا کرنا شرعاً واجب نہیں، اگر وہ اپنے طور پر دے دیں تو امید ہے کہ عنداﷲ مقبول ہوکر اس کے چھٹکارا کا ذریعہ بن جائے۔
پھر جب میت کی فوت شدہ نماز روزوں کی تعداد معلوم نہ ہو تو اس صورت میں ادائیگئی فدیہ کیلئے یہ صورت اختیار کی جائے کہ اس کے بالغ ہونے یعنی پندرہ سال کی عمر کے بعد بقیہ عمر میں دیکھیں کہ وہ اکثر نماز، روزہ کا اہتمام کرتا تھا یا نہیں، محتاط اندازہ سے ایک مقدار متعین کرکے اس کا فدیہ ادا کردیں۔
(۷) جس گھر میں فوتگی ہوجائے تو ان کے قرب و جوار والوں اور عزیز واقارب کیلئے مستحب اور بہتر ہے کہ اہلِ میت کیلئے دن، رات کا کھانا بھیجیں اور اگر کوئی بھی نہ بھیجے تو خود اہل میت کیلئے بھی اس کا انتظام کرنا جائز اور درست ہے۔ (کما فی الشامیۃ: ج۲، ص۲۴۰) ۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1