کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے امام صاحب ،رمضان میں تراویح کے بعد ’’تبارك الذی‘‘ پڑھتے تھے وہ کسی پر زبردستی بھی نہیں کرتے تھے، کچھ ساتھیوں کا خیال ہے کہ یہ طریقہ بدعت ہے تو کیا واقعی یہ بدعت ہے؟
اگر یہ پڑھنا اس غرض کی بناء پر تھا کہ اس سورت کے رات سونے سے پہلے پڑھنے والے فضائل تمام حاضرین کو بھی حاصل ہو جائیں تو اس صورت میں اگرچہ امام موصوف کا یہ عمل درست ہے اور اُمید بھی کی جا سکتی ہے کہ سب کو اس کا ثواب اور اجر حاصل ہو، مگر یہ ایک انفرادی عمل ہے اور اسے انفرادی طور پر بجالانا ہی منقول ہے اور اسی کا اہتمام بھی چاہیے۔
تیجہ، بیسواں، چالیسواں، برسی، پہلے جمعہ کی رات وغیرہ میں جمع ہو کر اجتماعی دعا کرنا
یونیکوڈ احکام بدعات 1